The news is by your side.

Advertisement

کلبھوشن عالمی عدالت کیس: بھارت مطمئن نہیں کرپایا‘ پاکستان قونصلر رسائی دے‘ مکمل فیصلے تک پھانسی نہ دے

ہیگ: عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کیس میں اپنا فیصلہ سنا دیا‘ فیصلے میں کہا گیا کہ بھارت عالمی عدالت کو کیس کے میرٹ پر مطمئن نہیں کرپایا‘ پاکستان بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی دے‘ اور امید ہے کہ پاکستان عالمی عدالت کا مکمل فیصلہ آنے تک سزا نہیں دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق عالمی عدالتِ انصاف کے گیارہ ججز پر مشتمل جیوری نے یہ فیصلہ سنایا جس کی قیادت عالمی عدالت انصاف کے صدر رونی ابراہم کررہے تھے جن کا تعلق فرانس سے ہے۔


عالمی عدالت کے فیصلے کے مندرجات


 جج رونی ابراہم نے فیصلہ سناتے ہوئے  کہا کہ پاکستان اور28 ستمبر 1977 سے ویانا کنونشن کا حصہ ہیں اور عدالت میں ثابت ہوا کہ دونوں کا موقف بالکل الگ ہے۔

آرٹیکل ون کے تحت عالمی عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار ہے۔

پاکستانی قانون کےمطابق کلبھوشن کو 40 دن میں اپیل دائرکرنی ہوگی‘ معلوم نہیں ہوسکاکہ کلبھوشن نےاپیل دائرکی یانہیں۔

امید ہےعالمی عدالت کامکمل فیصلہ آنےتک کلبھوشن کوسزانہیں دی جائےگی۔

 پاکستان اور بھارت دونوں ویانا کنونشن کو مانتے ہیں کہ دہشت گردی میں ملوث افراد پر ’ویاناکنونشن‘ کااطلاق نہیں ہوتا۔

پاکستان کلبھوشن سےمتعلق تمام اقدامات سےعدالت کوآگاہ کرے۔

جج رونی نے کہا کہ عدالت صرف تب ہی ریلیف دے سکتی ہے جب بھارت ک طرف سے شواہد مکمل ہوں بھارت ہمیں مقدمے کے میرٹ پر مطمئن نہیں کرپایا۔


فیصلے سے پہلے عدالت نےکلبھوشن یادو کیس پر پاکستان اور بھارت دونوں کا موقف سنایا جس میں کہا گیا کہ پاکستان نے بھارت کو آگاہ کیا تھا کہ قونصلر رسائی کے بارے میں بھارت کا ردعمل دیکھ کرفیصلہ کیا جائے گا۔

بھارت نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ہمارا شہری ہے جسے پاکستان نے اغوا کیا اور اس پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرکے، یک طرفہ ٹرائل کے بعد بغیر قونصلر رسائی کے اسے سزائے موت دینا چاہتا ہے، عالمی عدالت اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد رکوائے۔

جواب میں عالمی عدالت نے پاکستانی حکام کو طلب کیا، درخواست کی سماعت ہوئی جہاں بھارتی اور پاکستانی وکلا نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے، پاکستانی وکلا نے کہا کہ مذکورہ کیس عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتا، عدالت درخواست مسترد کرے۔

فیصلے کی مکمل ویڈیو: 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں