The news is by your side.

Advertisement

کیوں نہ ہڑتال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیں، لاہور ہائی کورٹ

لاہور: ڈاکٹرز کی ہڑتال کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالت ہر صورت ہڑتال ختم کرائے گی، کیوں نہ ہڑتال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کاحکم دیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹرز کی ہڑتال کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے ینگ ڈاکٹرز کی قیادت کو طلب کر لیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت ہر صورت ہڑتال ختم کرائے گی، کیوں نہ ہڑتال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کاحکم دیں، قانون کی عملداری کے معاملے میں انتظامیہ کے ساتھ ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہڑتالیوں کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی گئی، ڈاکٹرز کے لائسنس ہیں تو انہیں کینسل کیوں نہیں کیا گیا، پاکستان میڈیکل کمیشن نے ابھی تک لائسنس کیوں منسوخ نہیں کیے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ دنیا بھر میں پروفیشنل ہڑتال پر نہیں جاتے، یہ کیسے ہوسکتا ہے اسپتال کسی کے لیے دستیاب ہی نہیں ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں موجود ہیں تو پھر ہڑتال کیوں کی گئی، ڈاکٹروں کے اعتراضات تھے تو عدالت سے رجوع کرتے، عدالت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ہڑتال پر جانے والے کون لوگ ہیں جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ پیرا میڈیکس بھی شامل ہو کر سڑکیں بند کر دیتے ہیں۔

ایڈیشنل سیکریٹری صحت نے کہا کہ 10 اکتوبر سے ڈاکٹر ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف احتجاج پر ہیں، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسا کوئی قانون نہیں بن سکتا جوعوام کے بنیادی حقوق کے خلاف ہو۔

لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ قانون بنا نہیں تو فریقین کا مؤقف سنے بغیر آرڈیننس جاری کردیا گیا،ایڈیشنل سیکریٹری صحت نے کہا کہ فریقین کا مؤقف سن کر ایم ٹی آئی ایکٹ میں ترامیم کی گئیں۔

لاہور ہائی کورٹ کا مریضوں کو بلا تعطل صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کا حکم

یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے ڈاکٹرز کی ہڑتال کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران مریضوں کو بلا تعطل صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں