The news is by your side.

Advertisement

فاطمہ نسومر: 20 سالہ لڑکی جو فرانس کی طاقت وَر فوج کے مقابلے میں ڈٹ گئی

شمالی افریقا کے ملک الجزائر کی تاریخ پڑھیے تو معلوم ہو گا کہ یہاں کے عوام نے انیسویں صدی میں فرانس کے استعماری عزائم اور اس کی طاقت وَر افواج کے بدترین مظالم کا سامنا کیا تھا اور آزادی کے لیے طویل جنگ لڑی تھی۔

فرانس نے 1830ء میں الجزائر پر قبضہ کیا تھا جو 132 سال تک برقرار رہا۔ اس عرصے میں‌ فرانس نے اپنی اس نو آبادی میں مسلسل مزاحمت اور احتجاجی تحاریک کو کچلنے کے لیے ہر حربہ اور ہر راستہ اختیار کیا، لیکن 1954ء اور 1962ء میں اسے ایک طویل گوریلا جنگ لڑنا پڑی جس کے بعد الجزائر میں آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ کہتے ہیں صرف اس عرصے میں ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں‌ میں‌ تھی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کے لوگ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام سے متعارف ہوئے تھے اور ایک ایسے ہی مسلمان گھرانے میں آنکھ کھولنے والی فاطمہ نسومر وہ جنگجو تھی جس نے فرانس کی استعماری فوج کے خلاف شدید مزاحمت کی اور میدانِ جنگ میں‌ دشمن کا مقابلہ کیا۔

‘خولہ الجزائر’ کے نام سے یاد کی جانے والی فاطمہ نسومر نے فرانسیسی افواج کے مقابلے کے لیے ہزاروں جنگجوؤں کا لشکر تیّار کیا۔ انھوں نے نوجوانوں میں‌ جذبہ آزادی کو ابھارا اور فرانسیسی مظالم کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیا۔

فاطمہ نسومر کا سنِ پیدائش 1830ء ہے اور 1850ء میں جب وہ فقط 20 سال کی تھیں، فرانس کے خلاف جاری ایک مزاحمتی تحریک کا حصّہ بنیں اور غیرمعمولی قائدانہ صلاحیت اور اپنی دلیری کے سبب حملہ آور دستوں کی قیادت کی۔ الجزائر کی اس جنگجو خاتون نے متعدد جھڑپوں میں فرانسیسی فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچایا، لیکن ایک بڑی طاقت اور منظّم فوج کا زیادہ عرصے مقابلہ آسان نہ تھا۔ فاطمہ نسومر کی فرانس کے خلاف مسلح مزاحمت دو سے ڈھائی سال تک جاری رہی اور انھیں‌ گرفتار کر لیا گیا۔

بغاوت اور فرانس کو جانی و مالی نقصان پہنچانے کے ‘جرم’ میں فاطمہ نسومر کو قید کی سزا سنائی گئی۔ فاطمہ نسومر 33 سال کی عمر میں‌ دورانِ قید زندگی کی بازی ہار گئیں۔

الجزائر کی‌ چند سڑکیں اور درس گاہیں اس بہادر خاتون سے منسوب ہیں جب کہ متعدد مقامات پر ان کے یادگاری مجسمے بھی نصب ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں