The news is by your side.

Advertisement

بجلی کا بدترین بحران : لبنانی حکومت نے ملک کو اندھیرے میں ڈوبنے سے بچا لیا

گزشتہ کئی دہائیوں سے لبنان بدترین معاشی بحران کا شکار ہے اور درآمدات کو جاری رکھنے کے لیے پاور سیکٹر بھاری رقوم سے چل رہا ہے۔ لبنان میں اگر بجلی گھروں کے لئے ایندھن خریدنے کے لئے رقم وصول نہ کی جاتی تو رواں ماہ کے آخر میں ملک مکمل تاریکی میں ڈوب جاتا۔

حکومت نے اگر اب بھی کوئی اقدام نہ کرتے ہوئے بجلی کا مسئلہ حل نہ کیا تو پورا لبنان تاریکی میں ڈوب سکتا ہے اسی بلیک آؤٹ سے بچنے کیلئے لبنان میں197 ملین ڈالر قرضے کی منظوری دی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنانی صدر میشال عون نے سرکاری بجلی کمپنی کی سپلائی ختم ہونے سے قبل ایندھن درآمد کرنے کے لئے300ارب لبنانی پاونڈز ( 197ملین ڈالر) تک کے غیر معمولی قرض کی منظوری دے دی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق یہ منظوری اس وقت سامنے آئی ہے جب چند روز بعد لبنان میں بجلی کا بڑ ابلیک آؤٹ ہونے والا تھا۔ گزشتہ روز پیر کی صبح لبنان کے مختلف علاقوں میں بجلی مہیا کرنے کے اوقات کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔ کچھ علاقوں کو دن میں آدھے گھنٹے سے زیادہ بجلی کی فراہمی نہیں ہوسکی تھی۔

ادھرجنریٹر مالکان نے اپنے خدمات کے نرخ میں اضافہ کر دیا جس کے باعث ماہانہ بل 7لاکھ لبنانی پاؤنڈز تک پہنچ گئے جبکہ کم سے کم ماہانہ اُجرت 6لاکھ 75ہزار لبنانی پاؤنڈز ہے۔اس صورتحال میں عوامی مظاہروں میں اضافہ ہو گیا۔

لبنان میں لبنانی ورکرز کی جنرل کنفیڈریشن کے سربراہ بشارہ الاسمار نے کہا ہے کہ 5.51 فیصد سے بھی کم آبادی ایسی ہے جسے اپنے محلوں میں بجلی ، ایندھن ، مواصلات اور اشیائے خورونوش جیسی نعمتیں میسر ہیں۔

انہیں ہسپتالوں کے دروازوں پر روزانہ ہونے والی اموات، لوگوں پر ہونے والے ظلم اوران کے دلوں میں ہر لمحہ موجود غصے سے کوئی لینا دینا نہیں۔

بشار الاسمارنے انتباہ کیا کہ ایک ایسا دھماکہ ہوسکتا ہے جو کسی کو نہیں بخشے گا، خواہ وہ کتنے ہی اونچے درجے پر ہوں یا کسی بھی عہدے پر کام کر رہے ہوں۔

ٹیلی مواصلات کے وزیر طلال حوت نےعوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جب تک بی ڈی ایل نے ایندھن کی خریداری کے لئے ضروری فنڈز حاصل کررکھے ہیں،ٹیلی کام سیکٹر کو منقطع نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہمیں پہلے سے 3 گنا زیادہ یعنی روزانہ 25 ہزار ٹن سے 70 ہزار ٹن تک ایندھن کی ضرورت ہے۔

ہنگامی صورتحال کے لئے نیٹ ورک کے الیکٹرک جنریٹرز8 گھنٹے کی بجائے دن میں 20 سے 21 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ زمینی نیٹ ورک کے لئے سابقہ حکومت نے 48ارب ایل بی پی مختص کئے تھے ۔ہم اس میں 30 ارب لبنانی پاونڈز شامل کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں تاکہ ہم سال کے آخر تک ذمہ داریوں کی ادائیگی اور بحالی کا کام مکمل کرسکیں۔

ایسوسی ایشن آف پاور جنریٹر مالکان کے سربراہ عبدہ سعادہ نے کہا ہے کہ جنریٹر مالکان جو پروگرام اپنائیں گے اس کے مطابق جنریٹر روزانہ چار تا پانچ گھنٹے بند کردئیے جائیں گے۔ اس اقدام کی وجہ مارکیٹ میں ڈیزل کی کمی ہے۔

جنریٹر مالکان کو”مافیاز“قرار دینے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صارفین کی بڑی تعداد بل ادا کرنے سے قاصر ہے۔ جب حکمران طبقہ گذشتہ دہائیوں میں بجلی خدمات کا انتظام کرتا رہا اور بجلی کے لئے مختص 47 بلین ڈالر لوٹ لئے اور اس میں بہتری لانے میں ناکام رہا، پھر مافیا کون ہے؟

ڈیزل کے ساتھ گیسولین کی قلت کا سبب اجارہ داری، شام کو اسمگلنگ اور ایندھن کے لئے بلیک مارکیٹ ہو رہی ہے۔ پٹرول کے کنسترکی قیمت ایک لاکھ لبنانی پاؤنڈ ہے۔

نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ اتوار کوالقا کے قصبے بیکا میں ایک شخص نے اپنی کار کو ہی آگ لگا دی کیونکہ وہ اس میں پٹرول بھروانے سے قاصر تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں