The news is by your side.

Advertisement

لیبیا کے دھڑ جڑے بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن

ریاض/طرابلس : سعودی عرب کے ڈاکٹرز کی ٹیم کا کہنا ہے کہ دھڑ جڑے بچوں کا آپریشن 11 مراحل میں 15 گھنٹوں تک جاری رہے گا جس میں 35 ماہرین حصہ لیں گے۔

تفصیلات کے مطابق لیبیا سے تعلق رکھنے والے دو شیرخوار بچے جن کے دھڑ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں کوآپریشن کے ذریعے الگ کرنے کے لیے سعودی عرب لایا گیا ہے۔

سعودی عرب کے ماہر سرجن ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ اور ان کی ٹیم نے بچوں کے معائنے کی تکمیل کے بعد ان کی سرجری کا فیصلہ کیا ہے، آپس میں جڑے بچوں کے نام احمد اور محمد رکھے گئے ہیں۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان کی سرجری کا عمل کل جمعرات کو شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے شاہ عبداللہ اسپتال میں کیا جائے گا۔

سرجری ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ دونوں بچوں کے پیٹ کا نچلا حصہ آپس میں جڑا ہوا ہے، دونوں اندرون کا نظام تناسل اور پیشاب کا نظام اندر سے ایک ہی ہے تاہم دونوں کا اعضاء تناسل الگ الگ ہیں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ موٹی آنت اور معدے کا کچھ حصہ بھی جڑا ہوا ہے اور بعض دوسرے اندرونی اعضاو جوارح بھی باہم مربوط ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الربیعہ کا کہنا تھا کہ بچوں کی سرجری کی کامیابی کے امکانات زیاہ ہیں تاہم کیس بہت زیادہ پیچیدہ ہونے کی وجہ سے کافی خطرات بھی ہیں۔

عرب ٹی وی کے مطابق بچوں کے والدین نے سرجری کی مکمل اجازت اور اختیارات دیے ہیں اس کے بعد اللہ پر بھروسہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بچوں کی پیدائش کی شرح بہت کم ہے، ایسے کیسز کے علاج کے لیے بہت زیادہ مہارت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن 11 مراحل میں 15 گھنٹے تک جاری رہے گا جس میں 35 ماہرین حصہ لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اب تک اس طرح کے 48 کیسز کا کامیاب علاج کیا جاچکا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں