The news is by your side.

Advertisement

کینسر سے متاثرہ چہرے کو کیسے بحال کیا گیا؟

مصنوعی اعضا کی پیوند کاری کوئی نئی بات نہیں تاہم یہ ایک نہایت مہنگا عمل ہے جس کی وجہ اس میں استعمال ہونے والی اشیا کا بیش قیمت ہونا ہے۔

تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس میدان میں بھی نئے نئے تجربات کیے جارہے ہیں اور اس عمل کی لاگت اور اس کی تیاری کا وقت کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایسی ہی ایک کوشش برازیل میں کی گئی جہاں تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے ایک خاتون کے نصف چہرے پر پیوند کاری کی گئی۔

53 سالہ ڈینس وسنٹن نامی یہ خاتون کینسر کے باعث اپنی ایک آنکھ کھو چکی تھیں جبکہ ان کے چہرے کا کچھ حصہ بھی بگڑ چکا تھا، تاہم ڈیجیٹلی طور پر تیار کیے گئے مصنوعی اعضا کی بدولت انہیں نئی زندگی مل گئی۔

برازیل کی پولیسٹا یونیورسٹی کے محققین نے تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے سیلیکون کے اعضا بنائے جن پر ڈیجیٹلی طور پر چہرے کے تاثرات بھی شامل کیے گئے۔

یہ اس نوعیت کا پہلا تجربہ تھا اور اس میں روایتی پیوند کاری کے برعکس نصف لاگت اور وقت خرچ ہوا۔ محققین کے مطابق مصنوعی اعضا تیار کرنے میں بہت وقت لگتا ہے کیونکہ اب تک ہاتھ سے مصنوعی اعضا تیار کیے جاتے رہے ہیں، اس میں بہت محنت اور وقت لگتا ہے جبکہ اس کی لاگت بھی کئی گنا زائد ہے۔

اب مذکورہ پیوند کاری سہ جہتی تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے عمل میں لائی گئی اور اس کے لیے صرف اسمارٹ فون سے کھینچی گئی تصاویر کی مدد لی گئی۔

یہ تکنیک دندان سازی میں بھی استعمال کی جاتی رہی ہے اور اسے پہلی بار سر اور گردن کی سرجری کے لیے استعمال کیا گیا۔ سنہ 2015 سے اب تک اس نوعیت کی پیوند کاری سے 50 افراد فیضیاب ہوچکے ہیں۔

پیوند کاری کیسے کی گئی؟

وسنٹن کی سرجری کا عمل سنہ 2018 سے شروع ہوا۔ سب سے پہلے ان کی آنکھوں کے حلقوں میں ٹائٹینیم کی سلاخیں ڈالی گئی جو مصنوعی پیوند کو سہارا دے سکیں۔

اس کے بعد ایک سال کے اندر ان کی متعدد سرجریاں کی گئیں جس میں ان کے چہرے کے ٹشوز پر کام کیا گیا۔ محققین نے خاتون کے چہرے کی مختلف تصاویر لیں جس کی مدد سے سہ جہتی ماڈل بنایا جا سکا۔

ایک گرافک ڈیزائنر کی مدد سے ان کے نصف صحت مند چہرے کی تصویر تخلیق کی گئی۔ اس کے بعد اسی تصویر کو سلیکون اور سنتھٹک فائبر پر تھری ڈی پرنٹ کیا گیا۔

اس پیوند کو اصل کی طرح دکھانے لیے اس کا رنگ وسنٹن کی جلد کی طرح رکھا گیا جبکہ آنکھ کو بھی سبز رنگ کا بنایا گیا۔

پیوند کی تیاری کے حتمی مرحلے میں 12 گھنٹے لگے، اور یہ دیگر طریقوں سے تیار کیے جانے والے اعضا کی تیاری کا نصف وقت ہے، البتہ پیوند کاری کا عمل مکمل ہونے میں ایک سال کا عرصہ لگا۔

یہ چھوٹا سا پیوند وسنٹن کے چہرے پر فٹ بیٹھ گیا، اس پر لگے ننھے مقناطیسی ٹکڑے آنکھ کے حلقوں میں موجود ٹائٹینیم کی سلاخوں سے چپک گئے اور یوں یہ پیوند مکمل طور پر چہرے کا حصہ بن گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر مصنوعی اعضا کی تبدیلی میں 5 لاکھ ڈالرز خرچ ہوسکتے ہیں، تاہم یہ عمل لاگت میں بے حد کم ہے اور اس کے لیے صرف کمپیوٹر اور اسمارٹ فون درکار ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں