The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: افریقہ میں تیار کردہ دوا آخر کار جرمنی کی لیبارٹری پہنچ گئی

مشرقی افریقی ملک مڈغاسکر میں تیار کردہ جڑی بوٹیوں کے مشروب، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ کرونا وائرس کا مؤثر ترین علاج ہے، کا جرمنی میں ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔

افریقی رہنماؤں اور خصوصاً مڈغاسکر کے صدر ایندرے رجولین کے بار بار زور دینے پر بالآخر اس افریقی مشروب کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے جسے کوویڈ اورگینک کا نام دیا گیا ہے۔

جرمنی کے میکس پلینک انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین سمیت ڈنمارک اور امریکی محققین نے اس مشروب کے اہم جزو ارٹیمیسیا پودے کا ٹیسٹ شروع کردیا ہے۔ اس پودے کو ایک طویل عرصے سے ملیریا کے علاج میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں صرف اس پودے کو ٹیسٹ کیا جارہا ہے جس میں ماہرین اس پودے کے افعال اور کرونا وائرس سے اس کے تعلق کا جائزہ لے رہے ہیں۔

مڈغاسکر نے ابھی اس دوا کے فارمولے کو ظاہر نہیں کیا ہے اور اس حوالے سے صدر رجولین کا کہنا ہے کہ وہ مشروب بنانے کے حقوق محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس پودے پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج مئی کے آخر تک سامنے آجائیں گے، تاہم اگر اس کی افادیت ثابت ہوجاتی ہے تو اس سے بنے مشروب کے کلینکل ٹیسٹ کیے جائیں گے جس میں مزید وقت لگے گا۔

مڈغاسکر میں تیار کردہ یہ مشروب کوویڈ اورگینک افریقہ میں بے حد مقبولیت پارہا ہے، مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشروب کے استعمال سے کرونا وائرس کے مریض تیزی سے صحتیاب ہورہے ہیں۔

مڈغاسکر کے صدر کا کہنا ہے کہ اس مشروب کی ایک ہی خوراک سے 24 گھنٹوں کے اندر کرونا وائرس کے مریض کی حالت میں بہتری آتی ہے، جبکہ اگلے 7 سے 10 دن میں مریض مکمل طور پر صحتیاب ہوجاتا ہے۔

دیگر افریقی ممالک نے بھی بڑی مقدار میں اس مشروب کو مڈغاسکر سے منگوایا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں