The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں لاپرواہی کی بدترین مثال، کرونا مریض کی لاش کسی اور خاندان کے حوالے

اہلخانہ اپنے بزرگ کی تلاش میں در در ٹھوکریں کھاتے رہے

نئی دہلی: بھارتی ریاست مہاراشٹر میں اسپتال انتظامیہ نے غفلت و لاپرواہی کی مثال قائم کردی، کرونا کا شکار معمر مریض کی لاش ایک اجنبی خاندان کو تھما دی جن کا مریض بدستور اسپتال میں زندہ تھا، آنجہانی شخص کے رشتے دار اپنے بزرگ کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مہاراشٹر میں بھالچندر گائیکواڑ نامی معذور اور معمر شخص کو کرونا وائرس کا ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد مقامی اسپتال میں داخل کروا دیا گیا جبکہ ان کے اہلخانہ کو قرنطینہ کردیا گیا تھا۔

5 جولائی کو اسپتال انتظامیہ نے اہلخانہ کو فون کر کے بتایا کہ ان کا مریض اسپتال سے فرار ہوگیا ہے، اہلخانہ نے کہا کہ مریض لقوہ کے شکار تھے اور ایک قدم بھی چل نہیں سکتے تو فرار کیسے ہوگئے۔

اس کے بعد اہلخانہ اسپتال میں تلاش کرنے پہنچے، تلاش میں ناکامی کے بعد مقامی تھانے میں گمشدگی کا مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

پولیس نے تفتیش کی تو علم ہوا کہ گائیکواڑ کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں آئی سی یو میں داخل کروایا گیا تھا جہاں ان کی موت ہوگئی۔

پولیس کے مطابق گائیکواڑ کے برابر میں ایک اور معمر مریض سوناونے زیر علاج تھا، اسپتال انتظامیہ نے گائیکواڑ کی لاش سوناونے کے اہلخانہ کو دے دی جبکہ دوسرا مریض سوناونے ابھی زندہ تھا۔

سوناونے کے اہلخانہ نے گائیکواڑ کی لاش کو اپنا مریض سمجھ کر ان کی آخری رسومات بھی ادا کردیں۔

مقامی رکن اسمبلی نرنجن ڈاؤکھرے نے واقعے پر ذمہ داران کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے انتظامیہ کی لاپرواہی صاف ظاہر ہورہی ہے، ایک شخص کی 3 دن قبل موت ہوگئی اور اس کی لاش کسی اور کو دے دی گئی، مرنے والے کے اہلخانہ اسے تلاش کر رہے ہیں، جبکہ زندہ شخص کو مردہ قرار دے کر اس کی آخری رسومات بھی ادا کروا دی گئیں۔

مقامی پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے اور دونوں خاندانوں کے اہلخانہ کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں