The news is by your side.

Advertisement

سیاست کا کوئی شوق نہیں اس کے بغیر بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، ملالہ یوسف زئی

کراچی:  ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈاکٹرز نے حملے کے بعد سرجری کر کے جان بچائی، وطن واپس آکر بہت اچھا محسوس کررہی ہوں اور پاکستان میں تعلیم کے لیے  جو کام جاری ہے اُسے بڑھانا چاہتی ہوں، سیاست کا کوئی شوق نہیں اس کے بغیر بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

اے آر وائی کے پروگرام سوال یہ ہے میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ ہرانسان کومرضی کےمطابق زندگی گزارنےکاحق ہے، بچوں کی تعلیم پاکستان کیلئے بہت اہم ہے، ٹیکنالوجی کا دور ہے دنیا آگے جارہی ہے ہمیں بھی آگے جانا ہوگا۔

ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ہمیں والدین کو بتانا ہوگا بچیوں کو تعلیم کا پوراحق حاصل ہے اگر انہیں ہم نے لڑکیوں کو تعلیمی میدان میں پیچھے رکھا تو آدھی آبادی پیچھے رہ جائے گی، بچیاں تعلیم حاصل کریں گی تو یہ ملک کے کام آئے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ  پاکستان سے باہر تعلیمی نظام کو دیکھنا چاہئے، ہمارے لوگ بیرونِ ملک جائیں گے تو انہیں تبدیلی نظر آئے گی،  مجھے اپنے ملک کی ثقافت پر فخر ہے اور یہ کہہ سکتی ہوں کہ خواتین کو تعلیم اور طاقت ہم اپنے کلچر میں رہ کر بھی دے سکتے ہیں۔

پاکستان کی بہادر بیٹی کا کہنا تھا کہ ’سوات کےلوگوں نے طالبان کے خلاف اور امن کے لیے آواز اٹھائی،  مجھ پر حملہ ہوا تو پہلی سرجری  پاکستانی ڈاکٹرز نے کی جس کی وجہ سے میری جان محفوظ رہی، آپریشن کرنے والے خود حیران تھے کہ میں زندہ کیسے بچ گئی، سر پر گولی لگی جس کے 9گھنٹےبعد سرجری ہوئی‘۔

جو لوگ حملے کو ڈرامہ قرار دیتے ہیں اُن کے بارے میں ملالہ کا کہنا تھا کہ کاش یہ ڈرامہ ہوتا، معلوم نہیں لوگ کیوں مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔

ملالہ کا کہنا تھا کہ میں نے حملے کے بعد نئی زندگی دیکھی تاہم اب کوئی تکلیف تو نہیں البتہ بائیں کان سے سُنائی نہیں دیتا،  برطانیہ میں علاج کا فیصلہ والدین نے نہیں بلکہ حکومت نے کیا جہاں میری مزید سرجری ہوئی، برطانوی ڈاکٹرز نے کہا کہ جتنی تیزی سے میں روبہ صحت ہوئی ویسی اتفاق کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

گل مکئی کا کہنا تھا کہ مجھے جو نئی زندگی ملی وہ ضرور کسی مقصدکیلئے ملی ہے، اس لیے سوچا کہ اب تعلیم کے فروغ کے لیے کام کروں اور اپنے ملک کی لڑکیوں میں موجود تعلیمی فقدان کو کم کروں۔

پاکستان واپسی کے حوالے سے ملالہ کا کہنا تھا کہ سوات کے علاقے شانگلہ میں موجود اپنا گھر اور اسکول دیکھنا چاہتی ہوں، ہمارا علاقہ سوئٹزر لینڈ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے اور شانگلہ میں جو اپنا اسکول کھولا وہ بھی دیکھنے کا بے حد دل چاہ رہا ہے۔

سیاست میں دلچپسی کے حوالے سے پاکستان کی بہادر بیٹی کا کہنا تھا کہ سیاست کا کوئی شوق نہیں کیونکہ اس کے بغیر بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، عام طور پر لوگ سوچتے ہیں کہ وزیراعظم بن کر تبدیلی لائی جاسکتی ہے مگر ایسا نہیں ہے۔

ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ دنیاکےبہت سےلوگوں سے ملی اور سب سے ہی کچھ نہ کچھ سیکھنے کوملا، بہت سے وزرائے اعظم اور سیاستدانوں سے بھی ملی ہوں، ان ملاقاتوں کا مقصد تعلیم کے لیے فنڈنگ تھا۔

ملالہ کا کہنا تھا کہ صوبے بجٹ میں تعلیم پر صحیح خرچ کررہےہیں، ہمیں دیکھنا چاہئے کہ تعلیم کے لیے مختص کیا جانے والا بجٹ کس طریقے سے استعمال ہورہا ہے، تعلیمی فروغ کے لیے بچیوں کےاسکولوں کی تعدادبڑھانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اگر صرف سوات کی بات کی جائے تو وہاں 19 لڑکوں کے اور ایک لڑکیوں کا اسکول ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میراملک ہے اور یہاں آنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں ہے تاہم مستقبل میں جہاں اور جس ملک میں بھی رہناچاہوں گی تو یہ میرا اپنا فیصلہ ہوگا۔

نجی زندگی کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال پر ملالہ کا کہنا تھا کہ گھر والے شادی کا سوال صرف مذاق میں کرتے ہیں تاہم اس معاملے میں کوئی سنجیدہ نہیں ہے، میں ایسے لڑکے کو منتخب کروں گی جو خیال رکھنے والا اچھی سوچ کا حامل ہو اور شاہ رخ خان کی طرح خوبصورت نظر آئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں