The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، 92 سالہ مریض تدفین کے 18 روز بعد زندہ نکلا

لسبن: پرتگال کے شمالی علاقے میں مردہ قرار دیا جانے والا شخص تدفین کے بیس روز بعد زندہ برآمد ہوا، جس سے بیٹے نے بھی ملاقات کی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق پرتگال کے شمالی علاقے سے تعلق رکھنے والے 92 سالہ معمر شہری ماہلیورس ڈی پائیورس گزشتہ دو ماہ سے اسپتال میں زیر علاج تھے۔ ڈاکٹرز نے دس جنوری کو ماہلیورس کو مردہ قرار دیا اور اہل خانہ کو بتایا کہ اُن کا کرونا کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔

اسپتال انتظامیہ نے اہل خانہ کو بذریعہ فون بزرگ شخص کے انتقال کی خبر دی اور بتایا کہ دو دن بعد اُن کی تدفین کردی جائے گی۔ محکمہ صحت کی جانب سے نافذ کیے گئے قوانین کے تحت بیٹے یا اہل خانہ میں سے کسی کو بھی لاش دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

والد کے انتقال پر اہل خانہ نے صرف صبر کیا اور پھر آخری رسومات ادا کیں مگر گزشتہ ہفتے (18 روز بعد) اسپتال انتظامیہ نے غمزدہ خاندان کو مریض کے زندہ ہونے کی خبر سنائی، جس پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: اہل خانہ کی اسپتال میں توڑ پھوڑ، مردہ زندہ نکل آیا

اسپتال انتظامیہ نے لواحقین کو بتایا کہ جس مریض کا انتقال ہوا وہ دوسرا شخص تھا، ریکارڈ کے غلط اندراج کی وجہ سے آپ کو فون کر کے اطلاع دی گئی، جس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔

اس فون کو سننے کے بعد بزرگ شہری کا بیٹا اوریلینو ویرا اسپتال پہنچا اور ایس او پیز کے تحت والد سے کافی دیر ملاقات کی۔

صاحبزادے نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ نے اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگی ہے، چونکہ کرونا کی وجہ سے ڈاکٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں اس لیے یہ واقعہ پیش آیا۔

’میں سمجھ سکتا ہوں کہ اسپتال انتظامیہ پر شدید دباؤ ہے، طبی عملہ دن رات پوری مستعدی کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے، لیکن اس قسم کے واقعات کی روک تھام بھی اسپتال عملے کی ذمہ داری ہے، انہیں آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کا اعادہ کرنا چاہیے‘۔

یہ بھی پڑھیں: مردہ قرار دے کر دفنائی گئی کورونا مریضہ 10 دن بعد زندہ! حقیقت سامنے آگئی

اسپتال انتظامیہ کے مطابق  ماہلیورس ڈی پائیورس  کو دو ماہ قبل سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد علاج کے لیے اسپتال لایا گیا تھا، اسی دوران انہیں کرونا کی بھی تشخیص ہوئی اور وہ اب بھی وائرس سے متاثر ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں