The news is by your side.

Advertisement

5 ہزار کے موبائل کے لیے جو چراغ بجھایا گیا، کون تھا؟

کراچی: گزشتہ روز شہر قائد کے علاقے سہراب گوٹھ میں سڑک پر دو موٹر سائیکل سوار سفاک لٹیروں نے معمولی موبائل فون کے لیے آن لائن بائیک رائیڈر کو سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، آج ان کے جسد خاکی کو لینے کے لیے ڈیرہ غازی خان سے ان کا غم سے نڈھال بھائی کراچی پہنچ گیا۔

سفاک قاتل کی گولی کا نشانہ بننے والے بد قسمت محنت کش نوجوان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کا نام عمران تھا، اور وہ ڈیرہ غازی خان سے پیسے کمانے آئے تھے، محنت کشوں پر مہربان شہر کراچی میں موٹر سائیکل چلا کر عمران اپنے بھائیوں کی کفالت کرتا تھا، لیکن چند ہزار کی خاطر یہ روشن چراغ بے دردی سے بجھا دیا گیا۔

مقتول عمران کے بھائی حسنین جو آج ڈیرہ غازی خان سے کراچی پہنچے

ڈیرہ غازی خان سے آج مقتول کا بھائی حسنین کراچی پہنچا، تو اے آر وائی نیوز نے ان سے بات کی، بھائی کی موت پر صدمے سے بے حال حسنین نے بتایا کہ بھائی عمران کراچی میں روزگار کمانے کے لیے آیا تھا، محنت مزدوری کر کے چھوٹے بھائیوں کی کفالت کرتا تھا، بھائیوں کی پڑھائی کا خرچہ بھی عمران ہی پورا کرتا تھا۔

سہراب گوٹھ میں قتل ہونے والے رائیڈر عمران

حسنین نے بتایا کہ عمران کے پاس 5 سے 6 ہزار روپے مالیت کا موبائل فون تھا، انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے بھائی عمران کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ وہ آج بھائی کی میت لے کر ڈیرہ غازی خان واپس جائیں گے۔

معمولی موبائل کیلیے رائیڈر کو گولی مار دی گئی، بچے ویڈیو نہ دیکھیں

مقتول عمران کے ساتھی رکشہ ڈائیور نے بتایا کہ عمران ہمارے ساتھ پٹیل پاڑا میں رہتا تھا، پہلے عمران کے پاس رکشہ تھا بعد میں موٹر سائیکل خریدی، عمران بہت محنتی تھا، صبح سے رات تک کام کرتا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں