The news is by your side.

Advertisement

بھوکوں کو کیک کھانے کا مشورہ دینے والی ملکہ کے زیورات نیلام

جنیوا: انقلاب ِ فرانس میں عوامی غضب کا نشانہ بننے والی ملکہ میری انتونیت کے قیمتی موتی اور ہیرے جڑے ہار کی نیلامی ہوئی، ہار اور دیگر جواہرات تین کروڑ ڈالر میں خرید لیے گئے جو کہ کسی بھی فروخت ہونے والے موتی کے لیے عالمی ریکارڈ ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس بدنصیب ملکہ کے زیورات پچھلے دو سو سال سے منظرِ عام پر نہیں آئے تھے اور ان میں موتی اور ہیرے جڑے ہار، بالیاں اور دوسرے زیورات شامل تھے۔ یہ زیورات اٹلی کے بوربن پارما ہاؤس کی جانب سے فروخت کے لیے پیش گئے تھے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں سدبیز نیلام گھر نے ملکہ میری انتونیت کے زیورات کا تخمینہ 20 لاکھ ڈالر لگایا گیا تھا۔ اس موتی کی فروخت سے قبل عالمی ریکارڈ معروف اداکارہ ڈیم الزبتھ ٹیلر کے جواہرات کا تھا جب ان کا جڑاؤ ہار 2011 میں ایک کروڑ ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔

سدبیز نے ملکہ میری انتونیت کے جواہرات کی نیلامی پر کہا کہ یہ ‘جوہرات اہم ترین شاہی خاندان کے خزانے میں سے ایک ہیں جو فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔’

سدبیز کی ڈپٹی چئیر ڈینیئلا مسکیٹی نے اس پر کہا کہ ‘یہ زبردست جواہرات ہمیں صدیوں پرانے اُس خاندان کے طرز زندگی کے بارے میں ہمیں بتاتا ہے۔ یہ جواہرات انتہائی خوبصورت ہیں اور ان پر بہترین کام کیا گیا ہے۔’

دریں اثنا ء ملکہ میری انتونیت کے جواہرات کے علاوہ شاہ چارلس پنجم، آسٹریا کے حکمران آرچ ڈیوکس اور ڈیوکس آف پارما کے جواہرات بھی اس نیلامی کا حصہ تھے۔نیلامی میں فروخت ہونے والے تمام جواہرات کی کل قیمت چھ کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھی۔

یاد رہے کہ میری انتونیت کا تعلق آسٹریا سے تھا اور انھوں نے فرانس کے بادشاہ لوئی شازدہم سے شادی کی تھی۔ ملک میں انقلاب کے بعد انھوں نے اپنے زیورات آسٹریا منتقل کر دیے تھے ، اور خود بھی ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اپنے خاوند اور بچوں سمیت پکڑی گئیں۔ سنہ 1793 میں 37 سال کی عمر میں گلوٹین کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

تاریخی ماخذات کے مطابق اس شاہی خاندان نے اس قدر پرتعیش زندگی گزاری تھی کہ عوام کو روٹی بھی بمشکل نصیب ہورہی تھی ، کہا جاتا ہے کہ ایسے ہی ایک احتجاج کا مذاق اڑاتے ہوئے ملکہ نے کہا تھا کہ ’اگر ان کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے تو یہ کیک کیوں نہیں کھاتے‘۔ ملکہ کے اس فقرے نے جلتی پر چنگاری کا کام کیا اور پورے ملک میں انقلاب کی لہر دوڑ گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں