The news is by your side.

Advertisement

احتساب عدالت نے مریم نوازاوریوسف عباس کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا

لاہور: احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتارمریم نواز اور یوسف عباس کو جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھجوادیا ،عدالت میں فوٹیج بنانے پرمریم نوازبرہم،کیپٹن صفدر نےفوٹیج بنانے والے شخص کا موبائل چھین لیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت کے جج چوہدری امیرخان نے چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت کی، نیب کے تفتیشی افسر نے ا س موقع پر مریم نواز کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا1998ء میں 16 کروڑ روپے ملزمہ کو ملے،رقم بھجوانے والی خاتون کا ملزمہ سے کوئی تعلق واضح نہیں،رقم بھجوانے والی خاتون صدیقہ سعدیہ نے چودھری شوگر ملز کا قرضہ بھی ادا کیا،مریم نواز کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اثاثوں اور آمدن کی تحقیقات کیلئے شریف خاندان کے افراد کو طلب کرنا ہے۔

مریم نوازکے وکیل نے کہا کہ چوہدری شوگر ملز کے شئیرز کی ٹرانسفر کا تمام ریکارڈ ایس ای سی پی کے پاس ہے،کمپنی کے معاملات کی تفتیش نیب کا دائرہ اختیار نہیں، دوران سماعت نیب پراسکیوٹر اور مریم کے وکیل آپس میں الجھ گئے،جس پر عدالت نے اظہار ناراضی کیا اور کیس پر دلائل دینے کی ہدایت کی ۔

عدالت نے مریم نواز کے مزید جسمانی ریمانڈکی نیب کی استدعا مستردکردی اور مریم نواز اور یوسف عباس کو 9 اکتوبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔

مریم نواز اور یوسف عباس نے درخواست کی کہ انھیں کوٹ لکھپت جیل بھجوایا جائے تاہم عدالت نے قراردیا کہ اس سلسلے میں جیل حکام فیصلہ کریں گے ۔

مریم نواز کی واپسی پر دھکم پیل سے عدالت کا دروازہ ایک بار پھر ٹوٹ گیا اور مریم نواز ویڈیو بنانے والے ایک شخص پر برہم بھی ہوگئیں، ان کی برہمی کے سبب کیپٹن صفدر نے ویڈیو بنانے والے شخص کا موبائل بھی چھین لیا۔

یاد رہے 8 اگست کو نیب نے چوہدری شوگرملز منی لانڈرنگ کیس میں مریم نوا ز کو تفتیش کے لئے بلایا گیا تھا لیکن وہ نیب دفترمیں پیش ہونے کے بجائے والد سے ملنے کوٹ لکھپت جیل چلی گئیں تھیں، تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہ ہونے پر نیب ٹیم نے انھیں یوسف عباس کو گرفتار کرلیا تھا۔ بعد ازاں مریم نواز اور یوسف عباس کو احتساب عدالت کےجج جوادالحسن کےروبروپیش کیا گیا تھا ، جہاں عدالت نے مریم نوازاور بھتیجے یوسف عباس کو 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

نیب کے تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ مریم نواز، نوازشریف اور شریک ملزموں نے2000ملین کی منی لانڈرنگ کی، ملزمان کےاثاثے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں