The news is by your side.

Advertisement

مردوں کی شخصیت کے بارے میں دلچسپ انکشاف

کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر مرد کھلنڈرے واقع ہوتے ہیں اور زندگی کے تمام معاملوں کو ہنسی کھیل میں اڑا دیتے ہیں، ان کے برعکس خواتین زیادہ بردباری کا مظاہرہ کرتی ہیں اور مختلف معاملوں کو سنجیدگی سے سنبھالتی ہیں۔

ہماری روزمرہ کی زندگی میں نظر آتے ان ثبوتوں کی اب سائنس نے بھی تصدیق کردی ہے۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق مردوں میں ذہنی بلوغت کا عمل دیر سے شروع ہوتا ہے اور 40 سال کی عمر سے قبل مرد کھلنڈری اور غیر سنجیدہ حرکتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے مرد و خواتین کے دماغ میں رونما ہونے والے ان عوامل کا جائزہ لیا گیا جو ذہنی پختگی اور میچورٹی کی وجہ بنتے ہیں۔

ماہرین نے 4 سال سے لے کر 40 سال تک کی عمر کے 121 مرد و خواتین کے دماغ کا ایم آر آئی اسکین کے ذریعے جائزہ لیا کہ ان کے دماغ میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

ماہرین نے دیکھا کہ دونوں کے دماغ کے وہ خلیات جو دماغ کو بالغ کرتے ہیں گو کہ یکساں صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں، تاہم مردوں میں وہ دیر سے کام کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: خواتین کی یادداشت مردوں سے بہتر

تحقیق میں دیکھا گیا کہ 40 سال کی عمر کے بعد مردوں کی ذہنی بالیدگی جس سطح تک پہنچتی ہے، خواتین کی ذہنی بالیدگی اس سطح پر بہت پہلے پہنچ چکی ہوتی ہے۔

ماہرین نے دیکھا کہ خواتین کا دماغ مختلف معلومات کو جلدی پروسس کرتا ہے، اور نہ صرف فوری بلکہ اپنی مکمل استطاعت کے ساتھ کام کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مردوں سے زیادہ عقلمند اور ذہین ہوتی ہیں۔

اسی طرح خواتین کی یادداشت بھی مردوں سے زیادہ اچھی ہوتی ہے اور وہ تمام واقعات کو مکمل تفصیل اور باریک بینی کے ساتھ یاد رکھتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مرد و خواتین کے دماغ میں یہ فرق ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں