site
stats
عالمی خبریں

غربت کے سبب افریقی نوجوان شدت پسند بن رہے ہیں

militancy

رسلز : اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افریقی ممالک میں غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان شدت پسندی کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے صومالیہ، نائجیریا، کینیا، سوڈان، نائجر اور کیمرون میں سرگرم عسکری گروپوں کے تقریبا 5 سو اراکین کے انٹرویو کے بعد کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے افریقہ میں عسکری کارروائیاں کرنے والے گروپوں میں اضافہ غربت اور بے روزگاری کی باعث ہوا ہے۔

یاد رہے کہ براعظم افریقہ دنیا کا دوسرا بڑا اعظم ہونے کے علاوہ دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا براعظم بھی ہے۔

نائیجیریامیں بوکوحرام کا مسجد پرحملہ‘100 افراد ہلاک

افریقا کے نمایاں شدت پسند گروہوں میں القائدہ افریقا‘ بوکو حرام‘ الشباب‘ انصار الشریعہ اور البرکات جیسے گروہ شامل ہیں ‘ ان میں سے بوکو حرام اپنی سفاکانہ کارروائیوں کے ساتھ سرفہرست ہے ‘ جس نے ایک طویل عرصے تک نائجیریا میں دہشت اور بربریت کا باز ار گرم رکھا تاہم اب وہاں کی حکومتی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ تنظیم دفاعی جنگ لڑنے تک محدود ہوگئی ہے‘ دوسری جانب عراق اور شام میں برسرِ پیکار داعش نے بھی افریقا میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کردیے ہیں ۔

غربت کی شرح زیادہ ہونے کے سبب افریقہ کے 5 سے 14 سال کی درمیانی عمر کے 40 فیصد بچے مزدوری کرتے ہیں اور ان کا شمار چائلڈ لیبر میں ہوتا ہے‘ ان کی اوسط آمدن بھی انتہائی کم ہوتی ہے ۔یہی بچے دہشت گرد تنظیموں کا آسان شکار ہوتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top