شام: ادلب کا معاملہ، ترکی اور روس کی ڈیل شدت پسند گروہوں نے مسترد کردی
The news is by your side.

Advertisement

شام: ادلب کے معاملے پر ترکی اور روس کی ڈیل شدت پسند گروہوں نے مسترد کردی

دمشق: شامی شہر ادلب کے معاملے پر ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والی ڈیل شدت پسند گروہوں نے مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق روس اور ترکی کے درمیان یہ ڈیل طے پائی تھی کہ وہ شامی شہر ادلب کو غیر عسکری علاقہ قائم کریں گے، تاہم جنگجوؤں نے اس ڈیل کو رد کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شدت پسند تنظیموں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ روس اور ترکی نے سازش کے تحت اس ڈیل کو طے کیا ہے جسے ہم نہیں مانتے۔

ترکی اور روس نے اعلان کیا ہے کہ پندرہ اکتوبر سے ادلب میں ’غیر عسکری علاقہ‘ قائم کیا جائے گا، ادلب شامی باغیوں کے زیر قبضہ آخری بڑا ٹھکانا ہے اور شامی فورسز اس کے خلاف بڑی عسکری کارروائی شروع کرنے والی ہیں۔

ادلب کے معاملے پر ترکی اور روس کی ڈیل، اقوام متحدہ نے خوش آئند قرار دے دیا

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ترکی اور روسی سربراہان کے درمیان ملاقات روسی شہر سوچی میں ہوئی تھی، ملاقات تین گھنٹے طویل جاری رہی تھی، رجب طیب اردوگان اور ولادی میر پیوٹن نے شامی شہر ادلب میں غیر فوجی علاقے کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔

واضح رہے کہ ترک اور روس نے فیصلہ کیا ہے کہ اس دوران اس علاقے سے النصرہ فرنٹ سمیت تمام شدت پسند باغی گروپوں کو وہاں سے باہر نکالا جائے گا۔

اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے شام میں روسی حملوں کے تناظر میں کہا تھا کہ اس کی قیمیت پوری دنیا کو ادا کرنی پڑے گی۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی جانب سے بھی مذکورہ ڈیل کو سراہا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں