The news is by your side.

منی ہارٹ اٹیک : مریض کیا محسوس کرتا ہے؟َ اہم علامات

منی ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب کورونری شریانوں میں عارضی رکاوٹ ہو۔ یہ بالکل اسی طرح ہے، جیسے منی اسٹروک کی علامات کے دوران ظاہر ہوتا ہے، منی ہارٹ اٹیک کے دوران ہونے والی علامات انتہائی قلیل مدتی اور ہلکی ہوسکتی ہیں۔

ہارورڈ ہیلتھ کے مطابق تمام میوکارڈیل انفکشنز (یعنی ہارٹ اٹیک) میں سے تقریباً 50 فیصد میں مریض کا خیال ہے کہ جو علامات ظاہر ہو رہی ہیں وہ کسی کم سنگین مسئلے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

جس سے فرد کے دل کی بیماری سے مرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جب کہ دل کے دورے کی کئی قسمیں ہیں، جس میں منی ہارٹ اٹیک یا سائلنٹ ہارٹ اٹیک شامل ہے جس سے متاثر ہونے والوں میں سے 45 فیصد ہیں۔

منی ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب کورونری شریانوں میں عارضی رکاوٹ ہو۔ یہ بالکل اسی طرح ہے، جیسے منی اسٹروک کی علامات کے دوران ظاہر ہوتا ہے۔ منی ہارٹ اٹیک کے دوران ہونے والی علامات انتہائی قلیل مدتی اور ہلکی ہو سکتی ہیں۔

دل کے اس دورےکو میوکارڈیل انفکشن بھی کہا جاتا ہے

عام طور پر کلاسک ہارٹ اٹیک کے ساتھ نظر آنے والی شدت کی کمی ہوتی ہے۔ ایک شخص منی ہارٹ اٹیک کے دوران اور اس کے بعد نارمل محسوس کر سکتا ہے اس کی دو وجوہات ہیں جنہیں سائلنٹ ہارٹ اٹیک کہا جاتا ہے۔

منی ہارٹ اٹیک کی علامات میں یہ بھی شامل ہیں

سینے میں درد یا سینے کے بیچ میں دباؤ یا نچوڑ کا احساس ہوتا ہے، یہ تکلیف کئی منٹ تک رہ سکتی ہے۔ یہ آتی اور جاتی بھی ہے۔

مذکورہ کیفیت میں گلے میں درد ہوتا ہے، علامات بدہضمی یا گیسٹرو ایسوفیجل ریفلوکس بیماری کے ساتھ الجھ سکتی ہیں۔ سینے میں درد یا تکلیف کا سامنا کرنے سے پہلے یا اس کے دوران سانس لینے مں دقت ہونا۔

اس کے علاوہ کمر کے اوپری حصے، جبڑے، گردن، اوپری حصے (ایک یا دونوں) اور یا پیٹ میں تکلیف۔ ہلکا  سر درد یا متلی محسوس کرنا اور ٹھنڈے پسینے آنا۔

اگر آپ اوپر دی گئی تمام علامات میں سے اپنے اندر کوئی بھی علامت پاتے ہیں تو فوری طور پر کسی اسپتال یا قریبی کلینک سے طبی امداد حاصل کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں