The news is by your side.

Advertisement

جب مرزا غالب کو مکان چھوڑنا پڑا!

مرزا غالب کے ایک چہیتے شاگرد منشی ہر گوپال المعروف مرزا تفتہ تھے جو ان کم نصیب شعرا میں‌ سے ہیں جنھیں‌ محققین اور ناقدین نے ان کے کلام سے زیادہ غالب کی خط کتاب اور مراسلت کے آئینے میں‌ ہی دیکھا اور ان کا زیادہ تذکرہ دنیائے سخن کے تاج وَر مرزا غالب کے خطوط کے ذیل میں‌ ہوا ہے۔ یہاں‌ ہم ایک ایسے ہی خط سے اقتباس پیش کررہے ہیں‌ جس میں اردو کے عظیم شاعر اسد اللہ خان غالب نے اپنے مستقر کی تبدیلی سے متعلق مرزا تفتہ کو اپنی تکلیف اور پریشانی سے آگاہ کیا تھا۔

مرزا غالب کے اس خط سے چند سطور ملاحظہ کیجیے۔

“مالک نے مکان بیچ ڈالا۔ جس نے لیا ہے اس نے مجھ سے پیام بلکہ ابرام کیا کہ مکان خالی کر دو۔ مکان کہیں ملے تو میں اوٹھوں (اٹھوں) بیدرد نے مجھ کو عاجز کیا اور مدد لگا دی۔ وہ صحن بالا خانے کا جس کا دو گز کا عرض اور دس گز کا طول، اس میں پاڑ بندھ گئی۔ رات کو وہیں سویا۔

گرمی کی شدت پاڑ کا قرب، گمان یہ گزرتا تھا کہ یہ کٹکڑ ہے اور صبح کو مجھ کو پھانسی ملے گی۔ تین راتیں اسی طرح گزریں۔ دو شنبہ 9 جولائی کو دوپہر کے وقت ایک مکان ہاتہ (ہاتھ) آ گیا، وہاں جا رہا، جان بچ گئی۔ یہ مکان بہ نسبت اس مکان کے بہشت ہے اور یہ خوبی کہ محلّہ وہی بلی ماروں کا۔

اگرچہ ہے یوں کہ میں اگر اور محلّہ میں‌ بھی جا رہتا تو قاصدانِ ڈاک وہاں پہنچتے، یعنی اب اکثر خطوط لال کنویں کے پتے سے آتے ہیں اور بے تکلف یہیں پہنچتے ہیں۔ بہرحال تم وہی دلّی بلی ماروں کا محلّہ لکھ کر خط بھیجا کرو۔

دو مسودے تمہارے اور ایک مسودہ بے صبر کا یہ تین کاغذ درپیش ہیں۔ دو ایک دن میں بعد اصلاح ارسال کیے جائیں گے۔ خاطر عاطر جمع رہے۔

صبح جمعہ
28 جولائی 1860ء

Comments

یہ بھی پڑھیں