The news is by your side.

Advertisement

ایم ایم اے کے منشور کا اعلان، بااختیار اور آزادعدلیہ، تعلیم، صحت، روزگار کی فراہمی کا عزم

اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے گا اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا

لاہور: دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے ٓئندہ انتخابات کے لئے 12 نکاتی منشور کا اعلان کردیا.

تفصیلات کے مطابق ایم ایم اے کی مرکزی قیادت نے ایک پریس کانفرنس میں اس منشور کا اعلان کیا، منشور میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ اور اسلامی دفعات کے تحفظ کو ترجیح حاصل ہے.

منشور میں بااختیار وآزاد عدلیہ کا قیام، اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم، نئے ڈیمزکی تعمیر اور بجلی کا مؤثر نظام کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے.

ایم ایم قائدین کے مطابق منشور میں بھارت کی آبی جارحیت کا مؤثر تدارک اور سی پیک میں مقامی آبادی کے روزگار اور انفرااسٹرکچر کو ترجیح دی جائے گی.

منشور میں ملک میں باوقار اور آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کئے جائیں گے.

ایم ایم کی قیادت کے مطابق اقتدار میں آ کر تعلیم اور روزگارکی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، ساتھ ہی غیرضروری ٹیکسز کا خاتمہ کیاجائے گا، ضروریات زندگی کی قیمتوں میں کمی لائی جائے گی. خواتین کا استحصال اورعدم مساوات کا خاتمہ کیا جائے گا.

ایم ایم اے کے منشور میں چھوٹی صنعتوں کا فروغ، کسان، مزدوروں کے لئے سودمند پالیسی، تحصیل وضلعی سطح پراپ گریڈیشن، پانچ مہلک بیماریوں کے مفت علاج کی فراہمی شامل ہے.

ساتھ ہی غیرملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے گا اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا.

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین میں تمام اسلامی دفعات کاتحفظ ضروری ہے، آئین کی دفعات پر حملے ہوتے رہے ہیں، ہمارا مقصد بااختیار،آزادعدلیہ، تعلیم،صحت،روزگار کی فراہمی یقینی بنانا ہے.


ایم ایم اےعام آدمی کے لئے ایوانوں کے دروازے کھول دے گی: سراج الحق


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں