The news is by your side.

Advertisement

طیارہ حادثہ: ماڈل کالونی کی بھی سُنیے!

کراچی میں مسافر طیارے کے حادثے کے بعد فضا سوگوار ہے اور جائے حادثہ سے لاشیں اکٹھی کرنے، متاثرین کی مدد کے ساتھ ساتھ تحقیقاتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

قومی ایئر لائن کا طیارہ قائد اعظم انٹرنیشل ایئر پورٹ کے نزدیک گنجان آباد علاقے کی رہائشی عمارتوں پر گر کر تباہ ہوا جسے ماڈل کالونی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ ملیر چھاؤنی سے ملحق بڑی آبادی ہے۔

ماڈل کالونی میں مختلف شعبوں سے وابستہ متعدد اہم اور مشہور شخصیات بھی آباد ہیں یا ماضی میں رہائش پزیر رہی ہیں۔ ان میں معین اختر، ابراہیم نفیس، زیبا شہناز، روبی نیازی اور کئی اہم اور قابلِ ذکر شخصیات شامل ہیں جو مختلف سرکاری اور نجی ادارو‌ں میں اہم عہدوں پر فائز رہی ہیں۔

طیارہ جناح گارڈن نامی آبادی کی رہائشی عمارتوں پر گرا جس کی کسی کثیر منزلہ عمارت سے ایئر پورٹ کا رَن وے اور اس پر جہازوں کی آمدورفت کا آسانی سے نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

ماڈل کالونی کا وہ مرکزی روڈ جس سے ملحق آبادی میں یہ حادثہ پیش آیا ہے، اس لحاظ سے نہایت اہمیت رکھتا ہے کہ یہ ایک جانب سپر ہائی وے کو نکلتا ہے اور دوسری طرف سفر کرنے والوں کو شارع فیصل تک پہنچا دیتا ہے۔ اسی روڈ پر سفر کرتے ہوئے آپ گلستان جوہر بھی جاسکتے ہیں۔

ماڈل کالونی کے اکثر رہائشی مکانات کا رقبہ 120 سے 400 گز ہے جب کہ ملیر کھوکھرا پار، ملیر سٹی، شمی سوسائٹی، رفاہِ عام، جامعہ ملیہ، شاہ فیصل کالونی اور قائد آباد سے یہاں کئی لوگ کاروبار کی غرض سے بھی آتے ہیں۔ اس علاقے میں مختلف تجارتی عمارتیں، سپر اسٹورز اور عام دکانوں میں رات گئے تک کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔

جناح گارڈن میں‌ داخل ہونے کے بجائے اگر ماڈل کالونی کے اس مرکزی روڈ پر محض چند منٹ کی مسافت طے کی جائے تو یہاں کئی شادی ہالز اور مشہور ریستوراں یا فاسٹ فوڈ کے مراکز بھی موجود ہیں۔

جائے حادثہ اور ایئرپورٹ سے ملحق آبادی پر نظر ڈالیں تو ایک بڑا مسئلہ اور انسانی جانوں اور املاک کے لیے سنگین خطرہ یہاں کی مسلسل اور بے قاعدہ تعمیرات ہیں۔ اس علاقے میں‌ فلیٹوں کے علاوہ کئی منزلہ رہائشی مکانات موجود ہیں جن کی متعلقہ اداروں سے اجازت نہیں لی گئی۔ اسی طرح تجاوزات کی بھرمار ہے جس سے سڑکیں اور گلیاں تنگ ہوچکی ہیں۔ عام خیال ہے کہ ایئر پورٹ کے نزدیک بلند عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں‌ ہے، تاہم یہاں اس بات کا خیال نہیں‌ رکھا گیا جو مستقبل میں کسی اور بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں