The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن ، پولیس کو نوازشریف سے جیل میں تفتیش کی اجازت مل گئی

لاہور : سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں پولیس کو نوازشریف سے جیل میں تفتیش کی اجازت مل گئی، نواز شریف ماڈل ٹاؤن مقدمے میں نامزد ملزم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقاتی ٹیم کانواز شریف سے تفتیش کا فیصلہ کیا ، احتساب عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں نواز شریف سے جیل میں تفتیش کیلئے ڈی ایس پی کی درخواست پر سماعت ہوئی ، سماعت احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کی۔

درخواست گزار ڈی ایس پی پنجاب پولیس محمد اقبال عدالت کے روبرو پیش ہوئے، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف ماڈل مقدمے میں نامزد ملزم ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ ماڈل ٹاون واقعے کی تفتیش سے متعلق نواز شریف سے جیل میں ملنے کی اجازت دی جائے۔

جس پر نیب پراسیکیوٹر مزار عثمان نے درخواست کی مخالفت کردی۔ نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو متعلقہ پلیٹ فارم سے رجوع کرنا چاہئے، متعلقہ پلیٹ فارم اسلام آباد ہائی کورٹ بنتا ہے۔

عدالت نے درخواست گزار ڈی ایس پی پنجاب پولیس محمد اقبال کی استدعا منظور کرتے ہوئے نواز شریف سے ملنے کی اجازت دے دی۔

مزید پڑھیں : سانحہ ماڈل ٹاؤن: مقدمے میں نامزد 7 سیاسی شخصیات طلب

یاد رہے 24 فروری کو سانحہ ماڈل ٹاؤن مقدمے میں نامزد 7 سیاسی شخصیات کو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش کے لیے طلب کیا تھا۔

خیال رہے 19 نومبر 2018 کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور 5 دسمبر کو حکومت کی جانب سے کیس میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرانے پر سپریم کورٹ نے درخواست نمٹا دی تھی۔

اس سے قبل سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں نامز ملزم نوازشریف، شہبازشریف ، حمزہ شہباز، راناثناءاللہ، دانیال عزیز، پرویز رشید اور خواجہ آصف سمیت دیگر 139 ملزمان کو نوٹس جاری کئے تھے۔

بعد ازاں 3 جنوری 2019 کو محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی ،جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ آئی جی موٹر ویز اے ڈی خواجہ ہیں۔

واضح رہے کہ جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں جامع منہاج القرآن کے دفاتر اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے کے لیے خونی آپریشن کیا گیا، جس میں خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق جب کہ 90 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں