The news is by your side.

Advertisement

گجرات فسادات میں ستانوے مسلمانوں کی قاتلہ عدالت سے بری

گجرات: گجرات فسادات میں ملوث حکمران جماعت کی خاتون سیاست دان کو ہائی کورٹ نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ہے، مایا کودنانی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قریبی ساتھیوں میں شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والی متعصب سیاست دان مایا کودنانی کو 2012 میں ماتحت عدالت نے مذہبی فسادات میں کلیدی کردار ادا کرنے پر اٹھائیس برس قید کی سزا سنائی تھی، استغاثہ کے مطابق مایا ستانوے مسلمانوں کے قتل میں ملوث تھیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد وکیل استغاثہ نے میڈیا کو بتایا کہ کودنانی کا نام خصوصی تفتیشی ٹیم کی طرف سے فسادات کی چھان بین کے دوران سامنے آیا تھا، عدالت نے خصوصی ٹیم کی تفتیش سے عدم اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مایا کودنانی کے خلاف پیش کردہ گیارہ گواہان کے بیانات میں عدم توازن پایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی ریاست گجرات میں 2002 میں خوف ناک مذہبی فسادات ہوئے تھے جس میں سینکڑوں مسلمان قتل کردیے گئے تھے۔ انسانی حقوق سے متعلق اداروں کے مطابق گجرات ميں رونما ہونے والے ان واقعات ميں ہلاک ہونے والے ڈھائی ہزار افراد میں اکثريت مسلمانوں کی تھی۔

گجرات مسلم کش فسادات کے 11 ملزمان کو 7 سال قید کی سزا

مسلمان عورتوں، مردوں اور بچوں کو قتل اور تشدد کرنے کے علاوہ زندہ جلائے جانے ميں بھی ملوث خاتون سیاست دان نے سزا کے خلاف گجرات ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، دیگر مجرموں کی جانب سے بھی نظرثانی درخواستیں دی گئی تھیں لیکن انھیں مسترد کردیا گیا۔

واضح رہے کہ 2007 سے 2009 تک بچوں اور خواتین کے امور کی وزیر رہنے والی مایا کودنانی کے بارے میں خصوصی تفتیشی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ وہ احمد آباد کے نواحی علاقے نروداپاتیا میں مسلمانوں کی ہلاکت میں انتہائی متحرک رہی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں