کلیات محسن بھوپالی کا اجرا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خصوصی شرکت
The news is by your side.

Advertisement

کلیات محسن بھوپالی کا اجرا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خصوصی شرکت

کراچی: نامور پاکستانی شاعر محسن بھوپالی کے کلیات کا اجرا کردیا گیا، تقریب میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق آرٹس کونسل کراچی میں کلیاتِ محسن بھوپالی کی تقریب اجرا کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی ، جس کی  صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کی جبکہ دیگر معززین میں ڈاکٹر پیر زادہ قاسم، اردو لغت بورڈ کے سربراہ عقیل عباس جعفری اور شاہانہ جاوید سمیت دیگر شامل تھے۔

معززین گرامی نے محسن بھوپالی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کتاب کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے شرکا کو آگاہ کیا جبکہ مہمان خصوصی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی اظہار خیال کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اردو کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں دیگر قومیتوں کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ محسن پاکستان کا کہنا تھا شہر قائد میں بسنے والے تمام ہی اکائیوں کے لوگ شائستہ لہجے میں اردو بولتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ میں کئی ایسے سندھی رہنماؤں کو جانتا ہوں جو بہت اچھے طریقے سے اردو میں بول چال کرتے تھے علاوہ ازیں لیاری کے مکینوں پر بھی محسن پاکستان نے تبصرہ کیا۔

ایٹمی سائنسدان نے اپنے بچن کا واقعہ سنایا کہ وہ ایک بار بس میں سفر کررہے تھے جس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر مکرانی (بلوچ) تھے، گاڑی اپنی مخصوص رفتار سے منزل کی جانب رواں دواں تھیں کہ اچانک ڈرائیور نے بریک مار دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’گاڑی کو بریک لگنے کے بعد جب میں نیچے اترا تو دیکھا بس کے آگے ایک بلی کا بچہ ہے جسے کنڈیکٹر نے گود میں اٹھا کر اپنے مخصوص انداز میں کہا یہ باغ نہیں سڑک ہے اور پھر اُسے فٹ پاتھ پر رکھ دیا‘۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان کا مزید کہنا تھا کہ لیاری میں ایسے بھی لوگ بستے ہیں مگر آج انہیں گینگ وار کے نام کی شناخت دے دی گئی۔ اپنی تقریر کے آخر میں محسن پاکستان نے مدعو کرنے پر منتظمین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

محسن بھوپالی کون تھے؟

محسن بھوپالی کی پیدائش 29 ستمبر 1932 کو بھارت کے علاقے بھوپال سے متصل ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں ہوئی، آپ کا اصل نام عبد الرحمان جبکہ والد کا نام عبد الرزاق لاڑکانہ تھا۔

آپ نے ابتدائی تعلیم بھوپال سے حاصل کی، قیام پاکستان کے بعد آپ کا خاندان نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہو ا اور پھر آپ کے اہل خانہ نے کچھ عرصے کے بعد حیدرآباد میں رہائش اختیار کی۔

لاڑکانہ منتقلی کے بعد آپ نے 1951 میں ہائی اسکول لاڑکانہ سے میٹرک اور 1954 میں گورنمنٹ کالج سے انٹرمیڈیٹ پاس کیا، بعد ازاں 1957 میں این ای ڈی سے تین سالہ ڈپلومہ کی ڈگری حاصل کی اور پھر 1974 میں کراچی یونیورسٹی سے بی اے کی سند حاصل کی۔

آپ نے سندھی زبان کا محکمہ جاتی امتحان پاس کیا بعد ازاں 1979 میں جامعہ کراچی سے ایم اے اردو اور 1987 میں اردو کالج سے صحافت میں ماسٹرز کیا۔

آپ کو حکومت سندھ کے محکمہ تعمیرات میں 12 جون 1952 کو ملازمت ملی بعد ازاں آپ ترقی کی منازل طے کرتے رہے اور جب 1993 میں ریٹائر ہوئے تو آپ کے پاس ایگزیکٹو انجینئر کا عہدہ تھا۔

محسن بھوپالی کو شاعری کی وجہ سے شہرت ملی، آپ نے اپنی زندگی میں 10 تصانیف لکھی، آپ کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’شکست شب‘ 1961 میں منظر عام پر آیا بعد ازاں دیگر کتابیں بھی آئیں مگر ’گرد مصافت اور پھر ’جستہ جستہ‘، ’نظمانے اور ماجرہ قابل ذکر رہیں۔

محسن بھوپالی 17 جنوری 2007 کو کراچی میں نمونیا کی بیماری سے لڑتے ہوئے دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔ آپ کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس آج بھی نظر آتا ہے۔

بھوپالی کے شعری موضوعات معاشرتی اور سیاسی حالات ہوتے تھے البتہ آپ کے ایک قطعے کو بھی خوب شہرت حاصل ہوئی۔

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے

اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے

مے خانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے

کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے

ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو

الزام جو دینا ہو، سر عام دیا جائے

آپ گلے کے سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئے جس کا 1988 میں کامیاب آپریشن ہوا مگر اس کے بعد آپ کو بولنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس کے باوجود آپ نے معمولاتِ زندگی جاری رکھے اور مشاعروں میں شرکت کر کے اپنے اشعار ادبی لوگوں کی خدمت میں پیش کیے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں