وہ مالی فیصلے جو آپ کو پچھتانے پر مجبور کردیں -
The news is by your side.

Advertisement

وہ مالی فیصلے جو آپ کو پچھتانے پر مجبور کردیں

انسان جب کمانا شروع کرتا ہے اور مالی طور پر خود مختار ہوتا ہے تو اس کے بعد اپنی معاشی حالت کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔

معاشی طور پر بدحال رہنا یا خوشحال ہوجانا اس کی محنت، لگن اور ذہانت پر منحصر ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کمائے ہوئے پیسے کو ذہانت سے اس طرح خرچ کیا جائے کہ وہ مستقبل میں آپ کے کام آئے۔

بعض افراد کی آمدنی بہت کم ہوتی ہے لیکن وہ اسے نہایت دانش مندی اور ذہانت سے خرچ کرتے ہیں جس سے نہ صرف وہ مالی طور پر پریشان نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات یہی آمدنی ذہانت سے کی گئی سرمایہ کاری کے باعث دگنی ہوجاتی ہے۔

مزید پڑھیں: بڑھاپے تک ارب پتی بنانے والی عادات

اس کے برعکس بعض افراد ساری زندگی بہت کماتے ہیں لیکن خرچ کرنے میں دانش مندی سے کام نہیں لیتے جس کے باعث وہ نہ صرف ہمیشہ معاشی طور پر پریشان رہتے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کے لیے بھی قابل ذکر رقم جمع نہیں کر پاتے۔

یہاں ہم آپ کو ایسے ہی کچھ مالی فیصلوں سے آگاہ کر رہے ہیں، جو بظاہر تو بہت اچھے لگتے ہیں، لیکن در حقیقت کچھ وقت بعد وہ آپ کو پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔


مستقبل کے لیے جمع نہ کرنا

امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق زیادہ تر ملازمت پیشہ افراد اپنی ملازمت کے دوران بینک سے قرض لے کر گاڑی اور پر آسائش گھر خرید لیتے ہیں اور پھر بینک کو قسطوں میں قرض کی ادائیگی کرتے رہتے ہیں جس کے باعث اپنے مستقبل کے لیے جمع پونجی نہیں جوڑ پاتے۔

لیکن اس عمل کے نقصان کا اندازہ انہیں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ہوتا ہے اور وہ اس وقت کچھ رقم پس انداز نہ کرنے کے فیصلے پر بے حد پچھتاتے ہیں۔

اگر آپ اس پچھتاوے سے بچنا چاہتے ہیں تو ابھی سے کچھ رقم جوڑنا شروع کردیں چاہے آپ کی آمدنی کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔


انشورنس نہ کروانا

انشورنس کی رقم بھرنا بعض اوقات بہت مشکل عمل لگتا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے اپنے اوپر غیر ضروری جبر عائد کرلیا ہے۔

لیکن اس کے فائدے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کسی بری صورتحال سے دو چار ہوتے ہیں۔

صحت، گھر اور گاڑی کی انشورنس کسی بھی حادثے کی صورت میں آپ کو بے شمار مسائل سے بچا سکتی ہے۔


سیاحت نہ کرنا

بعض لوگ سیاحت کرنے کو فضول خرچی سمجھتے ہیں مگر یہ سوچ سراسر غلط ہے۔

ایک امریکی سروے میں جب مالی طور پر خوشحال افراد سے ان کی زندگی کے سب سے بڑے پچھتاوے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے سیاحت نہ کرنا بتایا۔

بہت کم لوگوں نے گھر نہ خریدنے یا سرمایہ کاری نہ کرنے کو اپنا پچھتاوا قرار دیا مگر اکثریت کو اس بات کا دکھ تھا کہ انہوں نے اپنی نوجوانی میں کوئی خاص سفر نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: سیاحت کرنے کے فوائد

سیاحت کرنا اور اپنی استطاعت کے مطابق گھومنا پھرنا ذہنی و جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہ آپ کو نئے سرے سے تازہ دم کرتا ہے جس کے بعد آپ زندگی کے میدان میں نئی توانائی کے ساتھ اترتے ہیں۔

سفر کرنا اور نئے لوگوں سے ملنا آپ کے تعلقات کو وسیع کرتا ہے اور آپ نئے مواقع اور نئے ذرائع آمدنی بھی حاصل سکتے ہیں۔


اپنے اوپر خرچ نہ کرنا

پیسہ کو اپنے اوپر اس طرح سے خرچ کرنا کہ آپ کی صلاحیتوں اور قابلیت میں اضافہ ہو، ایک قسم کی سرمایہ کاری ہے۔ اپنے پیشہ سے متعلق کوئی ایڈوانس کورس کرنا، کوئی ڈگری حاصل کرنا، کوئی نئی زبان سیکھنا پیسہ ضائع کرنا ہرگز نہیں۔

یہ سرمایہ کاری آپ کی قابلیت میں اضافہ کرے گی جو آگے چل کر آپ کے ذرائع آمدنی کو وسعت دے گی۔


سرمایہ کاری کا انتظار کرنا

آمدنی شروع ہونے کے بعد جتنی جلدی سرمایہ کاری کی جائے اتنا اچھا ہے۔ مواقعوں کا انتظار کرنا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔


بلا ضرورت گھر خریدنا

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ معاشی طور پر خوشحال ہوگئے ہیں، اور ایک نیا اور بڑا گھر خرید سکتے ہیں تو یہ کام اس وقت تک نہ کریں جب تک آپ کو گھر تبدیل کرنے کی اشد ضرورت نہ پڑ جائے۔

اپنے موجودہ گھر میں رہتے ہوئے اپنی ذرائع آمدنی میں اضافہ کریں اور جب گھر خریدنے کا فیصلہ کریں تو یاد رکھیں کہ گھر خریدنے کے بعد بھی آپ کے پاس اتنی رقم ہونی چاہیئے جو کسی ہنگامی صورتحال میں کام آسکے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں