The news is by your side.

Advertisement

عام ماؤتھ واش سے کرونا کو 30 سیکنڈ‌ میں‌ ختم کیا جاسکتا ہے، تحقیق

لندن: برطانوی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ عام ماؤتھ واش سے کرونا وائرس کو 30 سیکنڈ میں ختم کیا جاسکتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی کارڈف یونیورسٹی کے ماہرین نے کرونا وائرس کے خاتمے کے حوالے سے تحقیقی مطالعہ کیا۔

ماہرین کے مطابق کرونا کی روک تھام کے لیے 0.07 فیصد سیٹلک فیرڈینیم کلورائیڈ (سی پی سی) والے ماؤتھ واش کے استعمال سے کرونا کو نہ صرف بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے بلکہ اسے ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹرز رچرڈ اسٹینٹن کا کہنا تھا کہ ’تحقیق کے دوران ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ مارکیٹ میں دستیاب عام ماؤتھ واش کرونا وائرس کو ناکارہ بنایا جاسکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے متعدد ماؤتھ واش کا لیبارٹری میں تجربہ کیا، اس کو متاثرہ افراد کو بھی استعمال کرایا گیا تو وائرس اُن کے اندر سے ختم ہوگیا۔

مزید پڑھیں: کون سا جانور پالنے والے کرونا سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں؟

اُن کا کہنا تھا کہ ’ماؤتھ واش کے استعمال کا مریضوں پر مزید تجربہ کیا جارہا ہے تاکہ ہم اس بات کا بھی اندازہ لگا سکیں کہ متاثرہ افراد کے تھوک میں موجود وائرس کو کتنے روز میں‌ اور کس حد تک کم یا ختم کیا جاسکتا ہے‘۔

تحقیقی ماہرین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ہمارے مطالعے میں جو بات سامنے آئی ویسے تو وہ بہت ہی حوصلہ افزا اور مثبت ہے مگر ابھی کلینیکل تحقیق کی بھی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’ابھی ہم (ماہرین) اس بات کو سمجھنے کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ عام ماؤتھ واش کس حد تک متاثر ہونے والے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے‘۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق مطالعے کے جو نتائج سامنے آئے اُن کو جمع کرنے کے بعد کلینیکل ٹرائل آئندہ برس 2021 کے اوائل تک ختم کردیے جائیں گے تاکہ لوگوں کو بچایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا میں ذائقے کی حس کے خاتمے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ ویڈیوز میں خوفناک انکشاف

ماہرین اس بات کو معلوم کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ ایک مریض کو کتنی بار ماؤتھ واش کے استعمال کی ضرورت پیش آسکتی ہے اور اس کا اثر کتنے دنوں یا گھنٹوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔

ماہر امراض دانت اور تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر نک کلیڈون کا ماننا ہے کہ ’کرونا کی روک تھام کے لیے ماؤتھ واش کو ہاتھ دھونے، سماجی فاصلہ رکھنے اور فیس ماسک کے ساتھ احتیاطی تدابیر میں شامل کیا جانا چاہیے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں