The news is by your side.

Advertisement

کمپنی کی حکومت نے ہندوستان کو “درآمدستان” بنا دیا!

آج ہندوستان کو صرف زرعی ملک کہا جاسکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے شروع تک ہندوستان ایک صنعتی ملک تھا۔

دنیا کے ہر ملک کے تاجر ہندوستان سے تجارت کرتے تھے، مہذب دنیا میں ڈھاکہ اور مرشد آباد کی ململ کا استعمال عظمت اور برتری کا ثبوت تھا۔ یورپ کے ہر ملک میں‌ ان دو شہروں کی ململ اور چکن بہت زیادہ مقبول تھی۔

ہندوستان کی دوسری صنعتوں کی نسبت پارچہ بافی کی صنعت کو کمال حاصل تھا۔ ہندوستان سے سوتی اور اونی کپڑے، شال دو شالے، ململیں اور چھینٹیں برآمد کی جاتی تھیں۔

ریشم، کمخواب اور زربفت کے لیے احمد آباد دنیا بھر میں مشہور تھا۔ اٹھارھویں صدی میں ان کپڑوں کی انگلستان میں‌ اتنی مانگ ہوگئی تھی کہ اسے بند کرنے کے لیے حکومت کو بھاری ٹیکس لگانے پڑے تھے۔

پارچہ بافی کے علاوہ لوہے کے کام میں‌ بھی ہندوستان بہت زیادہ ترقی کرچکا تھا۔ لوہے سےتیار شدہ اشیا ہندوستان سے باہربھی بھیجی جاتی تھیں۔ اورنگ زیب کے عہد میں ملتان میں‌ جہازوں کے لیے لوہے کے لنگر ڈھالے جاتے تھے۔ جہاز سازی میں‌ بنگال نے بہت ترقی کر لی تھی۔

انیسویں صدی کے آغاز تک ہندوستان صنعت و حرفت میں انگلستان سے بڑھا ہوا تھا۔ انگلستان کے لیے تجارتی اور جنگی جہاز ہندوستان میں‌ تیار ہوتے تھے، لیکن انیسویں صدی کے بعد ہندوستان کی برآمد میں ‌کمی ہونا شروع ہوئی اور اس کی درآمد میں‌ ہر سال اضافہ ہوتا گیا، یہاں‌ تک کہ برآمد برائے نام رہ گئی اور ہندوستان محض “درآمدستان” بن کر رہ گیا۔

ایک انگریز کے الفاظ ہیں‌: “عام انگریزوں کو سمجھانا مشکل ہے کہ ہماری حکومت سے پہلے ہندوستانی زندگی کبھی پُرلطف تھی۔ کاروباری اور باہمّت لوگوں کے لیے کیسی کیسی آسانیاں‌ میسّر تھیں۔ مجھے پورا پورا یقین ہے کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے کاروباری ہندوستانی نہایت آرام کی زندگی بسر کرتے تھے۔”

اورنگ زیب کے عہد میں سُورت اور احمد آباد سے جو مال باہر بھیجا جاتا تھا، اس سے تیرہ لاکھ اور ایک سو تین لاکھ روپیہ سالانہ چنگی کے ذریعے وصول ہوتا تھا۔

(معروف مؤرخ، نقاد اور صحافی باری علیگ کی مشہور تصنیف “کمپنی کی حکومت” سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں