The news is by your side.

Advertisement

پی سی بی محمد عامر کو منانے میں کامیاب

کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ فاسٹ بولر محمد عامر کو منانے میں کامیاب ہوگیا ،جس کے بعد عامر نے قومی سلیکشن کے لئے دستیابی ظاہر کردی ہے۔

کراچی کنگز کے مایہ ناز فاسٹ بولر محمد عامر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وسیم خان میرے گھر آئے میرے تمام تحفظات سنے، یہ ملاقات پی ایس ایل سیکنڈ لیگ سے پہلے لاہور میں میرے گھر پر ہوئی تھی۔

محمد عامر نے بتایا کہ وسیم خان نے تمام خدشات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، پہلی بار ہوا کہ بورڈ نے کھلاڑی کے مسائل سننےمیں سنجیدگی دکھائی، برف دونوں طرف سے پگھل رہی ہے، گھر آئے مہمان کی عزت کرنا میرا فرض ہے، خود سے زیادہ ہمیشہ پاکستان کا سوچتا ہوں۔

گذشتہ سال دسمبر میں اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کراچی کنگز کے مایہ ناز بولر محمد عامر نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کے لئے وائٹ بال کھیلنا چاہتا تھا، مگر مجھے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کی بات پر ٹارچر کیا گیا۔

بعد ازاں فاسٹ بولر محمد عامر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ جذباتی نہیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔

فاسٹ بولر محمد عامر کا کہنا تھا کہ ٹیم مینجمنٹ نے لوگوں کے دماغ میں ڈالا میں ملک سے کھیلنا نہیں چاہتا، موجودہ مینجمنٹ پیچھے ہی پڑ گئی ، بار بار الزام لگایا کہ لیگ کے لیے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑی ہے، سابق کرکٹرز 2010 کی غلطی کو جواز بنا پر مجھ پر تنقید کرتے ہیں۔

محمد عامر کا کہنا تھا کہ میں نے سزا کاٹی اور معافی بھی مانگی اس کے بعد ٹیم میں کم بیک کیا لیکن میرا ماضی مجھے یاد دلایا جاتا ہے۔

فاسٹ بولر نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد کوچ اور بولنگ کوچ نے تنقید کرنا شروع کی اور پھر یہ کہا جانے لگا کہ لیگز کے اور پیسے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑی ہے، کچھ لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر کہتے ہیں‌ عامر نے کوئی احسان نہیں‌ کیا، میں‌ مانتا ہوں‌ کوئی احسان نہیں‌ کیا احسان اللہ کا ہوتا ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ یہ سب چیزیں‌ مجھے پریشان کررہی تھیں‌، میں‌ کمزور نہیں‌ ہوں‌ اگر کمزور ہوتا تو 2010 کے بعد کرکٹ میں‌ نہیں ‌آتا، میں‌ واپس آیا اور ایشیا کپ ، چیمپئنز ٹرافی 2017 اور ورلڈ کپ میں‌ اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔

فاسٹ بولر محمد عامر کا کہنا تھا کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق اور وقار یونس ایک پیج پر نہیں، ہیڈ کوچ کچھ اور بولنگ کوچ کچھ اور کہتے ہیں، دونوں نے مجھے سائیڈ لائن کرنے کی کوشش کی۔

مصباح، وقار مجھے پسند نہیں کرتے، اس لیے میرے ساتھ ایسا رویہ تھا، سینٹرل کنٹریکٹ سے نکال دیا گیا میں خاموش رہا، ذہنی اذیت دی جاتی تھی اور پھر بات تک نہیں کرتے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں