جمال خاشقجی قتل، محمد بن سلمان بے گناہ ہیں، ولید بن طلال -
The news is by your side.

Advertisement

جمال خاشقجی قتل، محمد بن سلمان بے گناہ ہیں، ولید بن طلال

ریاض: سعودی عرب کے ارب پتی شہزادے ولید بن طلال نے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کی شفاف تحقیقات ہوئیں تو ولی عہد محمد بن سلمان بے گناہ ثابت ہوں گے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے ادارے کو دیے جانے والے انٹرویو میں ولید بن طلال کا کہنا تھا کہ حکومت  اخبار سے وابستہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے نتائج جلد سب کے سامنے لائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ استنبول کے سفارت خانے میں جو کچھ ہوا وہ بہت ہولناک تھا کیونکہ اس کی وجہ سے سعودی شہری کی زندگی کا چراغ گل ہوا مگر اس قتل میں ولی عہد کے ملوث ہونے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی کھرب پتی شہزادے سے دوستی

ولید بن طلال کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کے سامنے جلد تمام حقائق رکھے تاکہ قیاس آرائیوں کو ختم اور  شہزادہ محمد بن سلمان بے گناہ ثابت کیا جاسکے۔

اینکر کی طرف سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جمال صرف میرا دوست ہی نہیں بلکہ وہ میرے ساتھ کام بھی کرتا تھا، امریکا یا ترکی کی طرف سے سعودی حکومت کو اتنا وقت دیا جانا چاہیے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات تک پہنچ کر رپورٹ مرتب کرلیں اور اُسے پبلک کریں‘۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اصلاحی مشن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ولید بن طلال کا کہنا تھا کہ ’سعودی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے ہی سماجی، مالی اور معاشی سطح پر تبدیلی آرہی ہیں، بدعنوانی کے خلاف شروع ہونے والی مہم میں گرفتار ہونے والے بہت سارے لوگ واقعی کرپٹ تھے جن کا احتساب بہت ضروری  تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں: کرپشن لے ڈوبی، کھرب پتی سعودی شہزادے کے اثاثوں میں نمایاں کمی

سعودی صحافی سے متعلق: سعودی عرب والد کی لاش حوالے کرے، جمال خاشقجی کے بیٹوں کا مطالبہ

اسی سے متعلق: سعودی ولی عہد کے معاونِ خصوصی نے’جمال خاشقجی‘ کو قتل کیا، ترک اخبار کا دعویٰ

ولید بن طلال کا مزید کہنا تھا کہ ’خلیجی ممالک انتشار کا شکار ہیں اور سعودی حکومت خطے میں امن کے لیے استحکام کی کوششوں میں مصروف عمل ہے، کیونکہ ہماری مملکت ’امن، استحکام اور سالمیت کا مرکز تصور کی جاتی ہے‘۔

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر ایک برس قبل اینٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے ولید بن طلال سمیت سیکڑوں شہزادوں اور حکومتی شخصیات کو گرفتار کیا گیاتھا بعد ازاں انہیں معاہدے کے تحت رقم ادا کرنے پر رہا کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں