The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں ہجوم کے ہاتھوں کسی کا قتل نفرت انگیز جرم قرار

واشنگٹن: امریکا میں ہجوم کے ہاتھوں کسی کا قتل وفاقی سطح پر نفرت انگیز جرم قرار دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ہجوم کی جانب سے ماورائے عدالت کسی شخص کے قتل کو امریکی تاریخ میں پہلی بار وفاقی سطح پر نفرت انگیز جرم قرار دینے کے بل پر دستخط کر دیے۔

دستخطوں کی تقریب وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں منعقد ہوئی، جو بائیڈن نے اس قانون کو صرف ماضی ہی نہیں بلکہ حال اور مستقبل سے متعلق بھی قرار دیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شہری حقوق کے امریکی رہنما اور قانون ساز ایسے بل کی منظوری کے لیے 100 سال سے زیادہ عرصے سے کوشاں تھے۔

امریکی میڈیا کے مطابق تقریب میں نائب صدر کملا ہیرس بھی شریک تھیں، جنھوں نے بطور سینیٹر کام کرتے ہوئے دیگر سیاسی اور شہری حقوق کے رہنماؤں کے ساتھ اس بل کے ورژن کی تیاری میں معاونت کی تھی۔

کملا ہیرس نے ہجوم کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کو امریکی تاریخ پر دھبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہمارے ملک میں نسلی دہشت گردی کی کارروائیاں اب بھی ہو رہی ہیں۔

انھوں نے کہا جب کوئی ایسے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو ہم سب میں ان کو نامزد کرنے اور مجرموں کا محاسبہ کرنے کی ہمت ہونی چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں