The news is by your side.

Advertisement

زعفران اور ریزگاری….

بچپن کی بات ہے شاید اسی لیے اچھی طرح یاد ہے۔ پورے قصبہ چاکسو (خورد) میں تجارت وجارت تو بڑی بات ہے، کسی مسلمان کی پنساری تک کی دکان نہ تھی۔ سن 1933 میں چند مسلمانوں نے قرضِ حسنہ اور چندہ جمع کرکے سرمایہ فراہم کیا اور صولت یار خاں، ریٹائرڈ سب انسپکٹر پولیس کو مسلمانوں کے محلّے میں پرچون کی دکان کھلوا دی۔

اس زمانے میں کوڑیاں بھی چلتی تھیں۔ دھیلے کا گھی اور چھدام کا بینگن خریدتے غریبوں کو ہم نے بھی دیکھا ہے۔ چھوٹے بینگن کا “جھونگا” اس کے علاوہ۔ صولت یار خاں کو منافع سے تو دل چسپی تھی، لیکن حساب کتاب کو مکروہ گردانتے تھے۔

دکان میں ان کی مسند، تکیے، حقے اور ترازو کے سامنے آٹا، شکر، بیسن، نمک، مرچ، دالیں اور مسالے، الٹی ہوئی آستین کی طرح ادھ کھلی بوریوں میں بھرے رہتے تھے۔ جو چیز جتنی بکتی اس کی قیمت اسی بوری یا کنستر پر سارے دن پڑی رہتی تاکہ حساب میں آسانی ہو۔ شام کو ہر جنس کی بکری کو علیحدہ علیحدہ گنتے۔

روکڑ کی میزان نہیں بیٹھتی تو اپنا دل نہیں جلاتے تھے۔ بہی کھاتوں میں ایک نئی مد “بھول چوک لینی دینی” کھول لی تھی۔ روزانہ کیش میں جو کمی واقع ہوتی وہ اسی کے متھے مارتے۔ ہوتے ہوتے اس مد میں کافی رقم چڑھ گئی جو تقریباً اصل سرمایہ کے برابر تھی۔

شبِ برات کی صبح مرزا عبدالودود بیگ جن کی عمر اس وقت سات سال ہوگی، چھ پیسے کی زعفران لینے گئے۔

زعفران کی پڑیا لے کر انہوں نے صولت یار خاں کو ایک کلدار روپیہ تھمایا۔ اتفاق سے زعفران کی ابھی بوہنی نہیں ہوئی تھی اور اس کے ڈبے پر کوئی ریزگاری نہیں تھی۔ صولت یار خاں نے بندھی بندھائی پڑیا مرزا کے ہاتھ سے چھین کر کہا۔ “ہشت! ہمارے پاس ریزگاری نہیں۔ گوبندا بنیے کی دکان سے سے خرید لے۔

” مرزا نے انگلی سے ریزگار کی ان ڈھیریوں کی طرف اشارہ کیا جو تقریباً ہر بوری اور کنستر پر پڑی تھیں۔ ارے صاحب وہ تو آپے سے باہر ہوگئے۔ دھمکی آمیز انداز سے “دو سیری” اٹھاتے ہوئے بولے۔

“مرغی کے! دوسری ڈھیری میں سے ریزگاری نکال کے تجھے دے دوں تو شام کو حساب کون کرے گا! تیرا باپ۔!”

(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب زرگزشت سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں