ناگاساکی: ایٹمی حملے کی تباہ کاریوں کا دوسرا گواہ -
The news is by your side.

Advertisement

ناگاساکی: ایٹمی حملے کی تباہ کاریوں کا دوسرا گواہ

ٹوکیو: جاپان کے شہر ناگا ساکی پر امریکی ایٹمی حملے کو 73 برس بیت گئے، امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا تھا۔

ناگاساکی پربم گرانے کی ویڈیو خبر کے آخر میں

دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جاپان پر دو تاریخ ساز ایٹمی حملے کیے تھے جن کی زد میں آکردو لاکھ سے زائد افراد اپنی جان گنوا بیٹھے تھے اور اس سے دوگنا تعداد تابکاری سے متاثر ہوئی تھی۔ اس موقع پر ناگا ساکی شہر کے میئر نے اپنی حکومت سے درخواست کی کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم استعمال کے معاہدے پر دستخط کرے ، ان کا کہنا تھا کہ جاپان ایٹمی حملے کا نشانہ بننے والا واحدملک ہے لہذا یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم ایٹمی عدم پھیلاؤ کے لیے کام کریں۔

ناگاساکی پر امریکی حملہ
ایٹمی حملے میں نشانہ بننے والا بدھا کا مجسمہ

امریکہ نے ناگا ساکی پر حملہ 9 اگست 1945 کو بی 29 طیارے کے ذریعے ایٹمی بم گرایا جس کا کوڈ نام ’فیٹ مین‘ رکھا گیا تھا، اس بم نے ناگاساکی میں قیامت برپا کردی اور جاپانی اعداد وشمار کے مطابق لگ بھگ 70 ہزار افراد اس حملے میں ہلاک ہوئے جن میں سے 23سے 28 ہزار افراد جاپانی امدادی کارکن تھے جبکہ ایک بڑی تعداد جبری مشقت کرنے والے کورین نژاد افراد کی بھی تھی۔

اس حملے سے تین دن قبل جاپان ہی کے شہر ہیروشیما پر امریکہ نے ’لٹل بوائے‘ نامی ایٹم بم گرایا تھا جس سے پھیلنے والی تباہی کے نتیجے میں ایک لاکھ40 ہزار کے لگ بھگ افراد مارے گئے تھے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں جاپابی شہری ان دونوں حملوں میں تابکاری اور مہلک حملوں کا شکار ہوئے۔

اس واقعے کے ٹھیک چھ دن بعد یعنی پندرہ اگست 2015 کو جاپانی افواج نے ہتھیار ڈال دیے اور دنیا کی تاریخ کی ہولناک ترین جنگ یعنی جنگِ عظیم دوئم اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔

ناگاساکی شہر کے مئیر ’تومی ہی سا تاؤ‘نے اس موقع پر جاپانی حکومت سے نیوکلیائی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے میں شامل ہونے پر زور دیا ہے‘ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے 122 ممبر ممالک نے نیوکلائی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ کیا ہے۔

جاپان میں وہ افراد جن کے پاس ایٹمی حملوں میں بچ جانے کا سرٹیفیکٹ تھا انہیں’ ہباکشا‘ کہا جاتا ہے ،صرف ناگا ساکی میں ان کی تعداد 174،080بتائی جاتی ہے اور ان کی اوسط عمر 80 برس ہے۔

ناگاساکی کی حکومت نے اگست 2016 میں 3،487 ہباکشا افراد کے مرنے کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ان بعد میں مرنے والوں کی تعداد 172،230ہوگئی ہے ۔

ہیروشیما میں 303,195افراد کو ہباکشا کا درجہ حاصل تھا اور ان کی تعداد بھی انتہائی تیزی سے کم ہورہی ہے‘ یعنی اب اس دنیا میں اس واقعے کے عینی شاہد انتہائی قلیل تعداد میں بچے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں