The news is by your side.

Advertisement

‘ کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت جاری، حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوگا ‘

قومی سلامتی سے متعلق اجلاس میں کہا گیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کیساتھ آئین کےدائرے میں بات چیت کی جارہی ہے تاہم حتمی فیصلہ پارلیمان کرے گی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اسلام آباد میں سیاسی اور عسکری قیادت کا قومی سلامتی پر اہم اجلاس ہوا جس میں قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے اجلاس کے شرکا کو ملکی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور کو ملک کی داخلی اورخارجہ سطح پر لاحق خطرات واقدامات کے ساتھ کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت اور اس حوالے سے تمام پس منظر سے آگاہ اور تمام ادوار پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کی سہولت کاری سے کالعدم ٹی ٹی پی کیساتھ آئین کے دائرے میں بات چیت کی جارہی ہے، حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی مذاکرات کررہی ہے تاہم اس حوالے سے آئین کی روشنی میں حتمی فیصلہ جو بھی ہوگا اسے پارلیمنٹ سے منظور کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس کو پاک افغان سرحد پر انتظامی امور سے متعلق آگاہ کیا گیا اور افغانستان میں امن استحکام کے لیے پاکستان کے کردار سے آگاہ کرنے کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام کیلئے تعمیری کردار جاری رکھے گا اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائیگا،

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو دنیا نے تسلیم کیا ہے اور آج پاکستان کے کسی حصے میں منظم دہشت گردی کا ڈھانچہ نہیں ہے، اجلاس میں سیاسی قیادت نے معاملات سے نمٹنے کی حکمت عملی اور پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

علاوہ ازیں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور کہا کہ ایسے اجلاس اب ہوا کریں گے، اس اجلاس سے متعلق ارکان پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا اور انہیں اعتماد میں لینے کیلیے پارلیمان کا ان کیمرا اجلاس بلایا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان روزانہ نئے نئے شوشے چھوڑ رہے ہیں، دو تین روز سے وہ نیب قانون میں ترامیم پر گفتگو کررہے ہیں، وہ بار بار خرم دستگیر کی گفتگو کا ذکر بھی کررہے ہیں، عمران ریٹائرڈ ججز کو احتساب عدالتوں میں لگا کر انتقامی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے تھے، نیب اصلاحات کے بعد اب 90 دن کا ریمانڈ نہیں ہوگا اور ان اصلاحات کا فائدہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو بھی ہوگا۔

رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ یوٹرن ماہر سے پوچھا جائے کہ امریکی سازش کا بیانیہ کہاں گیا؟ عمران خان پر عدم اعتماد اس کے اپنے اتحادیوں نے کیا تھا، وہ بتائیں کہ شہباز شریف کیخلاف کون سے 70 کیسز ہیں، گزشتہ حکومت نے4 سال لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں