The news is by your side.

Advertisement

‘قوم کے بچے تباہ ہورہے ہیں’ اسکولوں کی بندش پر طلبہ ناخوش

لوئر دیر : کرونا وائرس کے پیش نظر اسکولوں کی بندش نے بچوں کو غمگین کردیا، کئی ماہ بعد اسکول کھلنے اور پھر بندہونے پر بچوں نے پشتو نظم تیار کرلی۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی دوبارہ بندش کا فیصلہ ہے جس پر کہیں طالبعلم پرجوش نظر آئے تو کہیں بچوں نے غم کا اظہار کیا۔

خیبرپختونخوا کے علاقے لوئر دیر میں قائم اسکول کے بچوں نے کئی ماہ بعد اسکول کھلنے اور دوبارہ بند ہونے کے اعلان پر پشتو نظم تیار کی ہے۔

اسکول کے بچوں کی ایک ساتھ ترنم میں نظم پڑھ کر سنانے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر شیئر ہوئی تو جنگل میں آگ کی طرح وائرل ہوگئی۔

لوئر دیر کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی بندش پر ہمارا دل انتہائی افسردہ ہے، اسکول بند نہ کریں کیوں کہ تعلیمی حرج کے باعث قوم کے بچے تباہ ہورہے ہیں۔

واضح رہے کہ دو روز قبل وفاقی وزیر تعلیم نے تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم کا اجلاس طلب کیا تھا جس کے بعد 26 نومبر سے دس جنوری تک تعطیلات دینے کا اعلان کیا تھا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی بندش کے اعلان پر طلبا و طالبات میں خوشی لہر دوڑ گئی تھی، ہزارہ یونیورسٹی کے طلبہ نے تعلیمی اداروں کی بندش کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود کے حق میں شدید نعرے بازی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : تعلیمی اداروں کی بندش پر طلبہ پُرجوش، وزیرتعلیم کے حق میں نعرے بازی

طلبہ نے یونیورسٹی کے باہر نعرے لگائے کہ ’کل بھی کرونا زندہ تھا آج بھی کرونا زندہ ہے، شفقت محمود زندہ باز، جب تک سورج چاند رہے گا شفقت تیرا نام رہے گا‘۔

طلبہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی شفقت محمود کےلیے ٹرینڈ چلایا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں