The news is by your side.

Advertisement

نیٹو ممبرز نے افغانستان میں قیام کو امریکی فیصلے سے مشروط کر دیا

واشنگٹن: نیٹو ممبرز نے افغانستان میں قیام کو امریکی فیصلے سے مشروط کر دیا ہے، نیٹو ارکان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا افغانستان میں رکتا ہے تو ہم بھی رکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق نئے امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد نیٹو کے دفاعی وزرا نے آج (بدھ) کو افغانستان کی صورت حال پر بات چیت آغاز کر دیا ہے، اس حوالے سے 2 روزہ ورچوئل کانفرنس میں افواج کے ممکنہ انخلا کے معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کر کے افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا، تاہم نئی امریکی انتظامیہ افغانستان میں افواج کی موجودگی کے معاملے کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔

ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کے لیے یکم مئی کی ڈیڈ لائن دی تھی، نئی انتظامیہ اس امر کا جائزہ لے رہی ہے کہ اس ڈیڈ لائن پر قائم رہا جائے اور فوجیوں کا نخلا کیا جائے یا فوجیوں کے رکنے پر شدت پسندوں کی جانب سے ردعمل کا خطرہ مول لیا جائے۔

صحیح وقت سے قبل افغانستان نہیں چھوڑیں گے: نیٹو

جمعرات کو اس معاملے پر بات چیت مکمل ہونے کے بعد دفاعی وزرا کوئی اعلان کر سکتے ہیں، تاہم نیٹو کے دوسرے ممبرز اصرار کر رہے ہیں کہ ’اگر امریکا افغانستان میں رکتا ہے تو وہ بھی رکیں گے۔‘

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے پیر کو کہا تھا کہ اگرچہ کوئی اتحادی ضرورت سے زیادہ طویل عرصے تک افغانستان میں نہیں رہنا چاہتا، تاہم صحیح وقت آنے پر ہی افغانستان سے انخلا ہوگا۔

اس بیان کی بازگشت آج ایک امریکی عہدے دار کے بیان میں بھی سنائی دی ہے، امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ ایک عہدے دار نے کہا کہ امریکا اور نیٹو ایک ساتھ افغانستان گئے تھے، مل کر معاملہ سنبھال لیں گے، اور اگر وقت صحیح ہوا تو ہم ایک ساتھ افغانستان چھوڑیں گے۔

سینئر امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ نئے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کریں گے اور ان سے اس پر رائے بھی لیں گے، اس سلسلے میں تمام آپشنز زیر غور ہیں۔

دوسری طرف افغان طالبان نے نیٹو کے وزرا کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں رکنے اور جنگ کو جاری رکھنے کی کوشش نہ کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں