The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں آئین اورقانون کی حکمرانی قائم کرکےدکھائیں گے، نوازشریف

کوئٹہ : سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ آئین اورقانون پرکبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ کبھی نظریے سے پیچھے ہٹا اور آج بھی نظریے پر قائم رہنے کا عہد کرتا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں خان عبدالصمد خان اچکزئی کی 44 ویں برسی کے موقع پر ایوب اسٹیڈیم میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئین اورقانون کی حکمرانی قائم کرکے دکھائیں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی سے نظریاتی تعلق ہے جس کے سبب اِن کی جماعت اور ہماری جماعت ایک ہے اور ہم دونوں نے مل کر خان عبدالصمد خان کے نظریے پرعمل کرکے دکھایا ہے

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی، قوم کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلائی، کراچی و بلوچستان میں امن قائم کیا، سی پیک کا تحفہ دیا اور پاکستان بھرمیں بہترین سڑکوں کا جال بچھایا جس سے معیشت دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوئی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ احتساب کے نام پر نوازشریف سےانتقام لیا گیا ہے اور صادق وامین کے نام پر مجھے اُن لوگوں نے نکالا جنہوں نے خود پی ایس او پرحلف لیا، آئین کی خلاف ورزی کی اور آمروں کی راہ ہموار کی جب کہ میں نے وکلاء بحالی تحریک میں آئین و قانون کی تقدس کے لیے سڑکوں پر تشدد تک برداشت کیا تھا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ جس کی ایک پائی کی کرپشن ثابت نہ ہوئی، وہ کیا مائنس ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ جسےعوام پلس کریں اُسے کوئی اور مائنس نہیں کرسکتا اور نواشریف تو لوگوں کے دلوں میں بستا ہے جسے نکالنے کے تین بار سازشوں کے جال بچھائے گئے لیکن نواز شریف ہر بار سُرخرو ہوا۔

سپریم کورٹ سے پاناما پیپرز نااہل قرار دیئے جانے والے نواز شریف نے کہا کہ ایک کرکٹر نے لاہور کی میٹرو بس پروجیکٹ کو جنگلہ بس کہا لیکن اب وہ پشاور میں بھی جنگلہ بس بنا رہے ہیں حالانکہ پانچ سال ہوگئے اور ان سے ایک میٹرو بن ہی نہیں پا رہا ہے اور مقابلہ نواز شریف سے کرنے چلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کےغیورعوام کی بہادری کا قائل ہوں، بلوچستان کےعوام پاکستان کے اصل محافظ ہیں اور اپنے دور حکومت میں وہ ترقیاتی کام کروائیں جن کی نظیر 70 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی جس کی بدولت آج بلوچستان میں سڑکیں اورموٹرویز بن رہی ہیں اور صوبہ ترقی کررہا ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں