The news is by your side.

Advertisement

ایک شخص کس طرح قانون اورآئین سےبالاترہوسکتا ہے‘ نوازشریف

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ کس آئین کے تحت پرویز مشرف کواجازت دی گئی، اس کی شق ہمیں بھی پڑھا دیں، ایک شخص کس طرح قانون اور آئین سے بالاتر ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کےمطابق احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پرصحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے کہا کہ پرویز مشرف جیسے شخص کو کیسے گارنٹی دی جا سکتی ہے، ہماری عقل وفراست میں یہ بات نہیں آرہی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرف سنگین غداری کا مقدمہ دوسری طرف الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت مل گئی، کدھر کیا آئین وقانون، آرٹیکل 6 اور کدھر گئے سارے مقدمے؟۔

نوازشریف نے کہا کہ مجھے تا حیات نا اہل کردیا گیا، بیگم کی عیادت کے لیے 3 دن کا استثنیٰ مانگا جونہیں مل رہا۔

مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ بگٹی قتل کیس، ججزنظربندی، سانحہ 12 مئی، 2 بارآئین توڑنے میں پرویز مشرف شامل ہے، کس آئین کے تحت مشرف کواجازت دی گئی، اس کی شق ہمیں بھی پڑھا دیں۔

سابق وزیراعظم نے صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کس طرح قانون اور آئین سے بالاتر ہو سکتا ہےِ؟ آئین توڑنے والے کوآپ گارنٹی دیں کہ گرفتارنہیں کریں گے۔

نوازشریف نے کہا کہ مجھ سمیت سوچنے والے تمام لوگ حیرت میں ڈوبے ہیں، اس طرح کے مجرم کوکیسے چھوٹ مل سکتی ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا پرویز مشرف واپس آجائیں گےِ؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں قیاس آرائیاں نہیں کرتا۔

نواز شریف، مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

یاد رہے کہ گزشتہ روز نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نوازکی جانب سے گزشتہ روز حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن جانا ہے اس لیے 11 سے 15 جون تک حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

سابق وزیراعظم اور مریم نواز کی جانب سے درخواست کے ساتھ کلثوم نوازکی نئی میڈیکل رپورٹ بھی منسلک کی گئی تھی۔

عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں