The news is by your side.

Advertisement

نیب آمرکا بنایا ہوا کالا قانون ہے‘مقصد سیاست دانوں کوہدف بنانا تھا‘ نوازشریف

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سفیرنامزد کرتا ہے اور اس کا نام ای سی ایل پرڈال دیا جاتا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کون کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ نیب آمرکا بنایا ہوا کالا قانون ہے جس کا مقصد سیاست دانوں کوہدف بنانا تھا۔

نوازشریف نے کہا کہ سیاست دانوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے 2002 میں قانون بنایا گیا، خدشہ ہے 2018 کے الیکشن سے پہلے قانون کاغلط استعمال کیا جائے گا، مارشل لا ادوار میں جتنے بھی قوانین ہیں ان کوختم کردینا چاہیے۔

سابق وزیراعظم سے صحافی نے اداروں کے ساتھ بیٹھنے پر سوال کیا جس پرانہوں نے جواب دیا کہ کسی سگنل کا انتظار نہیں اور نہ ہی وہ سگنل لیتا ہوں، ساتھ بیٹھنے والی بات جمہوریت اورقانون کےلیے کی تھی۔

مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ جمہوریت کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں، ہم وہ نہیں جو ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھیں، ہم انگوٹھے کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔

نوازشریف نے کہا کہ ماضی میں جوہوتا رہا اب کسی صورت نہیں ہونے دیں گے، 70 سال سے یہی کھیل کھیلا جا رہا تھا، اب لوگ بھی کہہ رہے ہیں اب یہ مزید نہیں ہونا چاہیے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں چاہتے جبکہ کسی اور سے بھی ایک گھنٹے کی تاخیرہونے پرساتھ نہیں دیں گے، آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

مسلم لیگ ن کے قائد نےمیموگیٹ اسکینڈل پراعتراف کیا کہ جب میمو گیٹ زرداری پربنا تو مجھے ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا، کیس کسی پربھی بنائےجاسکتے ہیں بنتے رہے اوربن رہے ہیں۔

نوازشریف نے کہا کہ نگران وزیراعظم پروزیراعظم شاہد خاقان سے بات ہوئی ہے، چاہتے ہیں سیاست دان مل بیٹھ کرنگران وزیراعظم کا فیصلہ کریں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ مشرف کہتا تھا کہ نواز شریف اوربینظیر کو پاکستان نہیں آنے دوں گا، پرویزمشرف آج خود کہاں ہے، مشرف کے خلاف کیس شروع ہوا توبہانہ بنا کرکے اسپتال میں چھپ گیا۔

پرویز مشرف کو ملک سے باہربجھوانے سے متعلق راحیل شریف کے کردار پرسوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ وقت آنے پرسب بتاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے پارلیمنٹ مل کر اہم معاملات طے کرے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں