The news is by your side.

Advertisement

پاپ موسیقی کی ملکہ نازیہ حسن کو ڈسکو دیوانے یاد کررہے ہیں

نازیہ حسن کو گزرے 19 برس بیت گئے

برصغیر میں پاپ میوزک انڈسٹری کو نئی جہت فراہم کرنے والی پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نازیہ حسن کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 19 برس بیت گئے لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔

معروف گلوکارہ نازیہ حسن 3 اپریل1965 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن سے کیا، تعلیم لندن میں مکمل کی، نازیہ حسن کا شمار برصغیر میں پاپ موسیقی کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔

نازیہ حسن نے جو گایا خوب گایا، ان کے بہترین گانوں میں دوستی، ڈسکو دیوانے، آنکھیں ملانے والے، بوم بوم اور دل کی لگی شامل ہیں۔

انہوں نے کم سنی میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا اظہار کرنا شروع کر دیا، عالمی سطح پر نازیہ حسن کو اس وقت شہرت ملی، جب انہوں نے بھارتی موسیقار بدو کی موسیقی میں فلم قربانی کا مشہور نغمہ آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے ریکارڈ کروایا، جس پرانہیں بھارت کے مشہور فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

گیت آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے نے نازیہ کو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے وسطی ایشیا میں پاپ موسیقی کی ملکہ بنا دیا، نازیہ کی زندگی کے سب سے اہم جزو ان کے بھائی زوہیب حسن تھے، جنھوں نے نازیہ کی پوری زندگی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور یوں نازیہ کے کئی البم اپنے بھائی زوہیب حسن کے ساتھ جاری ہوئے۔

نازیہ حسن کی یاد تازہ کرتے مشہور اور خوبصورت گانے

نازیہ کا پہلا البم ’’ڈسکو دیوانے‘‘ 1982ء میں ریلیز ہوا۔ جس نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے، اس البم میں ان کے بھائی زوہیب حسن نے بھی اپنی آواز کا جادو جگایا تھا، نازیہ حسن کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

نازیہ صرف گلوکارہ ہی نہیں سیاسی تجزیہ نگار کے طور پر اقوام متحدہ سے وابستہ رہیں،1991 میں انہیں پاکستان کا ثقافتی سفیر مقرر کیا گیا۔

نازیہ حسن پہلی پاکستانی ہیں، جنہوں نے فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیا اور بیسٹ فی میل پلے بیک سنگر کی کیٹیگری میں ایوارڈ جیتنے والی سب سے کم عمر گلوکارہ قرار پائیں۔

نازیہ حسن کی وفات کے بعد 2002 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک کا سب سے بڑا اعزاز پرائڈ آف پرفارمنس دیا گیا جبکہ 2003 میں ان کی یاد میں نازیہ حسن فاوٴنڈیشن قائم کی گئی۔

سرطان کے موذی مرض میں مبتلا نازیہ حسن 13 اگست 2000 کو لندن کے اسپتال میں انتقال کر گئیں تھیں، مگر ان کی سریلی آواز میں گائے گیت آج بھی دل دماغ کو ترو تازہ کر دیتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں