The news is by your side.

Advertisement

ناظم جوکھیو قتل، صوبائی جے آئی ٹی مسترد، وفاق کا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان

کراچی: گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ناظم جوکھیو قتل کے لیے بنائی جانے والی جے آئی ٹی پر اعتراض کرتے ہوئے وفاقی سطح پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہاکہ قتل غیر ملکی شکاریوں کی وجہ سے نہیں ہوا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے گزشتہ دنوں مبینہ طور پر پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اور ملازمین کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے نوجوان ناظم جوکھیو کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت کی۔

گورنر سندھ نے ناظم جوکھیو کے قتل کو بہیمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نوجوان کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سندھ میں جانوروں کی حکومت ہے‘۔

مزید پڑھیں: ناظم جوکھیو قتل کیس: پی پی رکن سندھ اسمبلی جام اویس 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

انہوں نے کہا کہ  سندھ کی بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) پر  اعتماد نہیں، تحقیات کے لیے وفاقی سطح  پر جے آئی ٹی بنائیں گے۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ ناظم جوکھیو کا بہیمانہ قتل افسوس ناک ہے، قتل غیر ملکی شکاریوں کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کی وجہ سے ہوا ہے۔ گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں کئی اراکین ایسے بیٹھے ہیں جن پر قتل کے الزامات ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ کو چاہیےکہ ان کا ٹرائل کرائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بااثر ملزم کو بچایا جا رہا ہے، ایف آئی آر میں چند نام ہیں، اصل ملزمان کے نہیں ہیں، صوبائی سطح پر بنائی جانے ولای جے آئی ٹی بنی ہے پر ورثا کو اعتماد نہیں ہے، اس لیے  وفاقی سطح پر جے آئی ٹی بنائیں گے اور  ورثا کی جانب سے وکیل کا بندوبست بھی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ناظم جوکھیو کا قتل: ’بلاول صاحب یہ کیا ہورہا ہے؟‘

اسے بھی پڑھیں: ناظم جوکھیو کے قتل کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ناظم جوکھیو کے اہل خانہ سے ملنے آیا ہوں۔  وزیراعظم کو واقعے کی تفصیلات سے  آگاہ کروں گا، سندھ میں جنگل کا قانون چلنے نہیں دیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں