The news is by your side.

ڈنمارک میں فائرنگ سے مصنف ندیم یاسر قتل

کوپن ہیگن : ڈنمارک کے سابق گینگ لیڈر ندیم یاسر کو جرائم پیشہ زندگی پر تحریر کی گئی کتاب کی تقریب رونمائی کے اختتام پر ٹارگٹ حملے قتل ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی ملک ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اپنی آب بیتی پر کتاب تحریر کرنے والے جرائم پیشہ گروہ کے سابق سربراہ ندیم یاسر کتاب کی تقریب رونمائی کے اختتام پر نشانہ وار حملے میں ہلاک ہوگئے جبکہ حملہ آور موقع واردات سے باآسانی فرار ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ طبی امداد دینے والے عملے نے 31 سالہ ندیم یاسر کو شدید زخمی حالت اسپتال منتقل کیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے، مقتول نے روٹس کے نام سے اپنی یاداشتوں پر کتاب تحریر کی تھی جو منگل کے روز شائع ہوئی۔

مقامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ندیم یاسر گذشتہ برس بھی ٹارگٹ حملے میں متاثر ہوئے تھے۔

کوپن ہیگن پولیس کا کہنا ہے کہ افسوس ناک واقعہ دو روز قبل پیش آیا جب یاسر اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے 7 بج کر 30 منٹ پر ہال سے باہر نکل رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور گہرے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھا جس نے 31 سالہ مصنف پر پستول سے دو گولیاں چلائیں، پولیس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔

واضح رہے کہ ندیم یاسر ترکی میں پیدا ہوئے اور 4 برس کی عمر میں کوپن ہیگن منتقل ہوگئے تھے جہاں وہ جرائم پیشہ عناصر سے منسلک ہوگئے جبکہ کچھ عرصے بعد گروہ کے سربراہ بن گئے جس کے منشیات فروش گروہ سے تعلق تھا۔

ڈنمارک نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ ندیم یاسر نے والد بننے کے بعد سنہ 2012 میں جرائم کی دنیا کو خیر آباد کہا تھا اور جرائم کی طرف مائل ہونے سے روکنے کے لیے مقامی ریڈیو سے نواجونوں کی ذہین سازی شروع کردی تھی۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ 31 سالہ مصنف ندیم یاسر کی موت پر ریڈیو نے ٹویٹر پر ’الوداع ندیم یاسر، ہر چیز کے لیے شکریہ‘ کے الفاظ تحریر کیے اور آفس عمارت کی تصویر شیئر کی، جس میں یاسر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ملکی پرچم سرنگوں رکھا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں