The news is by your side.

Advertisement

تقریر میں‌ کسی جج کا نام نہیں لیا، نہال ہاشمی کا سپریم کورٹ میں‌ جواب

اسلام آباد: توہین عدالت کیس میں نہال ہاشمی نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی توہین نہیں کی، تقریر ایک گھر کے اندر کی تھی، توہین عدالت کا مقدمہ خارج کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق ن لیگ کے رہنما نہال ہاشمی نے اشتعال انگیز تقریرکیس میں جواب داخل کرادیا جو کہ 9 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں 5 گواہوں کی فہرست بھی شامل ہے جن میں رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کا نام بھی شامل ہے۔

نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ عدلیہ کی توہین نہیں کی،تقریر ایک گھر کے اندر کی گئی، رہائشی علاقے میں کی گئی تقریر کو توہین عدالت میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ میری تقریر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، پراسیکیوشن کے گواہ نے قبول کیا کہ میں نے کسی جج کا نام نہیں لیا، وہ تقریر سیاسی مخالفین کے خلاف تھی، عدالتی توہین ثابت ہوئی تو غیر مشروط طور پر معافی مانگوں گا۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے بعد مجھ پر فوج داری مقدمہ قائم کیا گیا،ایک معاملے کی 2 سطح پر کارروائی کی جارہی ہے، درخواست ہے کہ توہین عدالت کا نوٹس خارج کیا جائے۔

خیال رہے کہ نہال ہاشمی عارضہ قلب کے سبب پمز اسپتال اسلام آباد میں زیر علاج ہیں اور حال ہی میں ان کی انجیو گرافی ہوئی ہے، پاناما کیس میں جے آئی ٹی بننے کے بعد ان کی دھمکی آمیز تقریر پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ شروع کیا ہوا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں