The news is by your side.

Advertisement

ایک اور پہاڑی مقام کو سیاحتی مرکز بنانے کی تیاری، حکومت کو سالانہ کتنا ریونیو حاصل ہوگا؟

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختون خواہ کے علاقے مانسہرہ میں ایک اور سیاحتی مرکز قائم کرنے کی ہدایت کردی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق نیوبالاکوٹ سٹی کو سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے سے متعلق اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی، وزیراعلیٰ خیبرپختون خواہ محمد خان، رکن قومی اسمبلی صالح سواتی، صوبائی وزیر برائے آبادی سید احمد حسین شاہ، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اکبر نواز ستی اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے حکومت پہاڑی علاقوں مین نئے ریزوٹ بنانے کی خواہش مند ہے۔

وزیراعظم  ہدایت کی کہ حکومت سیاحتی مقامات کی تعمیر کے  لیے سرمایہ کاروں کوپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ پر راغب کرنے کی کوشش کررہی ہے، سرمایہ کاروں کوسہولیات کےلیےضروری اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: ملاکنڈ ڈویژن کو سیاحتی حب بنانے پر کام شروع

وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختون خواہ حکومت کو ہدایت کی کہ وہ منصوبے کو ایرا سے لے کر سیاحتی مقام کے طور پر مکمل کرے، اس دوران غذائی تحفظ کےلیے زیر کاشت اراضی کو منصوبےمیں شامل نہ  کیا جائے۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ نیو بالاکوٹ سٹی کو سیاحتی مرکز کےطور پر ترقی دینے کے حوالے سے تمام ضروری کارروائی مکمل کرلی گئی ہے

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس علاقے میں 6 ہزار 753 ایکڑ اراضی ہے، جس میں سے 63 فیصد رہائشی پلاٹ ہیں، جو مقامی متاثرین کی الاٹمنٹ کے لیے مختص ہیں جبکہ  2480 رہائشی ،575 کمرشل پلاٹس ، 800اپارٹمنٹس نیلام کیے جائیں گے، جس سے حاصل ہونے والے فنڈز اسی منصوبے پر خرچ کیے جائیں گے۔

بریفنگ میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ نیوبالاکوٹ سٹی کی ترقی خیبرپختون خواہ حکومت کی ذمہ داری ہے، صوبائی حکومت اس ضمن میں زمین حاصل کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیاحتی مقامات پربین الاقوامی معیار کی سہولتوں کو یقینی بنانے کی ہدایت

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت مکمل کیے جانے والے اس منصوبے میں یوتھ ہاسٹل ، تھیم پارک ، کیمپنگ گراؤنڈ اور تھری اسٹار ہوٹل شامل ہوں گے۔ یہ منصوبہ مکمل ہونے پر نہ صرف موجودہ سیاحتی مقامات پر دباؤ کو کم کرے گا بلکہ حکومت کے ساتھ متوقع آمدنی کی تقسیم کے نتیجے میں 7 ارب روپے سے زیادہ سالانہ کمائی کا ذریعہ بھی ہوگا۔

وزیراعظم نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں نجی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں