The news is by your side.

Advertisement

کرونا کے صحت یاب مریضوں سے متعلق نئی تحقیق، حیران کن دریافت

واشنگٹن: امریکا میں ہونے والی نئی طبی تحقیق میں دریافت ہوا کہ کرونا سے صحت یابی کے بعد مریضوں کا مدافعتی نظام وائرس سے دوبارہ لڑنے کے لیے پہلے سے زیادہ مؤثر ہوجاتا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی راک فیلر یونیورسٹی میں ہوئی اس تحقیق میں کہا گیا کہ کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریض کا دوبارہ مہلک وائرس سے مقابلہ ہو تو مدافعتی نظام زیادہ تیز اور موثر دفاعی حرکت میں آسکتا ہے کیوں مدافعی نظام میں حفاظتی اینٹی باڈیز کا معیار بہتر ہوجاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیق میں انکشاف ہوا کہ جسم کا مدافعتی نظام نہ صرف نوول کرونا وائرس کو یاد رکھتا ہے بلکہ بیماری سے صحتیابی کے بعد اس کا سامنا کرنے کے لیے حفاظتی اینٹی باڈیز کے معیار بہتر بناتا ہے۔

تحقیق میں شامل مائیک نوسینزوگ نامی محقق کا کہنا ہے کہ ریسرچ کے دوران زیادہ تر صحت یاب مریضوں کا مدافتی نظام وائرس کے دوبارہ حملے کے حوالے سے مضبوط ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت یاب مریض ممکنہ طور پر وائرس سے برسوں تک محفوظ رہ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کرونا کے دوبارہ حملے کے کیسز کافی کم ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل متعدد تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کے بیشتر مریضوں میں اینٹی باڈیز کی شرح چند ماہ گھٹ جاتی ہے جس سے مدافعتی نظام کمزور ہوجاتا ہے لیکن اب نئی تحقیق میں 87 مریضوں کی خدمات حاصل کی گئی اور محققین نے تصدیق کی اینٹی باڈیز کم ہوتی ہیں لیکن نظام پر فرق نہیں پڑتا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ 5 ماہ میں اینٹی باڈیز کی سطح میں 20 فیصد تک کمی آسکتی ہے مگر ان کے خیال میں اتنی کمی اہمیت نہیں رکھتی جبکہ دیگر حفاظتی اینٹی باڈیز کے معیار بہتر ہوجاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں