The news is by your side.

Advertisement

کرونا: فیس ماسک کے حوالے سے نئی تحقیق، اہم دریافت

واشنگٹن: عالمی کرونا وبا کے دوران فیس ماسک کی ضرورت اور اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، کئی طبی ماہرین ماسک کو ویکسین کا متبادل بھی قرار دیتے ہیں۔

فیس ماسک کے حوالے سےدنیا بھر میں مختلف تحقیقی رپورٹس تیار کی جاچکی ہیں جس میں کرونا کے خلاف ماسک کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ اسی ضمن امریکا میں ہونے والی طبی تحقیق میں بھی کہا گیا ہے کہ فیس ماسک کروناوائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

اس تحقیق میں ماہرین نے مختلف فاصلوں سے منہ یا ناک سے خارج ہونے والے ذرات کی مقدار کی جانچ پڑتال فیس ماسک یا اس کے بغیر کی جس سے یہ بھی دریافت ہوا کہ ماسک کتنے دور اور قریب سے مؤثر ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق1 فٹ کے فاصلے پر موجود دونوں افراد نے ماسک نہ پہنے ہوئے ہوں تو پھر وائرل ذرات سے کووڈ 19 کا خطرہ سوفیصد تک ہوتا ہے، اور اگر وہی دونوں افراد 3 فٹ کی دوری پر ہوں تو 17 فیصد تک خطرات ہوتے ہیں۔ جبکہ 6 فٹ دوری پر یہ خطرہ 3 فٹ رہ جاتا ہے، فیس ماسک کے ساتھ سماجی فاصلہ بھی ضروری ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ 3 فٹ کا سماجی فاصلہ کرونا سے بچاؤ کے لیے مددگار رہتا ہے لیکن اگر 6 فٹ فیصلہ اختیار کیا جائے تو یہ مثالی رہے گا۔ اور اگر دونوں افراد نے ماسک پہنا ہو تو ایک فٹ کی دوری سے بھی یہ خطرہ 0.5 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے، اس طرح ہم فیس ماسک استعمال کرکے کرونا کا خطرہ تقریباً ختم کرسکتے ہیں۔

فیس ماسک کے حوالے سے ناقابل یقین تحقیق

اس ریسرچ میں شامل محققین کا کہنا ہے فیس ماسک کرونا کا خطرہ کم کرنے کے لیے اہم ذریعہ ہے، وائرل ذرات کے تحفظ کے حوالے سے فیس ماسکس کی اقسام میں کوئی فرق دریافت نہیں کیا، فیس ماسک اور سماجی فاصلے کے علاوہ دیگر احتیاطی تدابیر اپنانا بھی بے حد ضروری ہے جن میں ہاتھ دھونا یا ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال قابل ذکر ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں