The news is by your side.

Advertisement

سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں سعودی ماہرین کیلئے سنگین خطرات!

ریاض: سعودی عرب میں سائبر سیکیورٹی کے لیے کام کرنے والے سینیئر ماہرین اور ان کی تنظیموں کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق سائبر سیکیورٹی کے لیے کام کرنے والی سعودی آرگنائزیشنز کو خود بھی سائبر حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔ مملکت میں ہونے ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 252 تنظیموں میں سے تقریباً 93 فیصد پر ایک سائبر حملہ ضرور ہوا ہے۔

یہ سروے رپورٹ وی ایم ویئرنامی امریکی کلاوڈ کمپیوٹنگ اور ورچوئلائزیشن ٹیکنالوجی کمپنی نے تیار کی۔ مشرق وسطیٰ، ترکی اور افریقہ کے لیے وی ایم ویئر کے ڈائریکٹر سیلز احمد ال سعدی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پیچیدگی، سلامتی کی دشمن ہے، سائبر سیکیورٹی کی تنظیمیں کونے گھدرے تک رسائی نہیں رکھتیں۔

وژن 2030: سعودی عرب کا بڑا عزم

انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا جگہوں سے سائبر حملے ہوتے ہیں جبکہ ذاتی موبائل ڈیوائسز، ہوم نیٹ ورکس، وی پی این جیسی غیرمحفوظ ٹیکنالوجیز سے بھی خطرات بڑھے ہیں۔

احمد ال سعدی کا کہنا تھا کہ یہ بے حد ضروری ہے کہ تنظیمیں کلاوڈ بیس پرسیکیور ایکسیس سروسز ایج(ایس اے ایس ای) جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنے نیٹ ورک کی وزیبلٹی حاصل کریں، سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی اور نیشنل انفارمیشن سنٹر اس سلسلے میں کافی عمدہ کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے حملہ آور ریموٹ کارکنوں کو درپیش رکاوٹ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رینسم ویئر حملوں میں ای میل کو ابتدائی رسائی حاصل کرنے کے لیے عام اٹیک ویکٹرکے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر ایم وی ویئر کے کنٹری منیجنگ ڈائریکٹر برائے سعودی عرب سیف مشاط نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کی تنظیمیں اگر اپنی سیکیورٹی بہتر بنانا چاہتی ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سلامتی سے متعلق اپنی کمزوریوں کا مکمل ادراک کریں، سروے کے دوران پتا چلا ہے کہ بہت سی تنظیمیں پہلے ہی کلاوڈ فرسٹ سیکیورٹی حکمت عملی کے استعمال کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں