The news is by your side.

Advertisement

نمرہ کاظمی کے شوہر کے وکیل کے عدالت میں شہلا رضا پر الزامات

کراچی : پسند کی شادی کرنے والی نمرہ کاظمی کے شوہر کے وکیل کے عدالت میں اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا شہلا رضا کے دباؤ کی وجہ سے نمرہ کو شیلٹر ہوم میں ہراساں کیا جا رہا ہے اور کھانا پینا بھی بند کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹ میں نمرہ کاظمی اغوا کیس کی سماعت ہوئی، نمرہ کاظمی کو عدالت میں پیش کردیا گیا ، نمرہ کے شوہر شاہ رخ کے وکیل نے عدالت میں اہم انکشافات کئے۔

ایڈووکیٹ محمد فاروق نے عدالت میں شہلا رضا پر الزام عائد کیا کہ ان کے دباؤ کی وجہ سے نمرہ کو شیلٹر ہوم میں ہراساں کیا جا رہا ہے، وہ شیلٹر ہوم جا کر لڑکی پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور ان کے کہنے پر نمرہ کا کھانا پینا بند کر دیا گیا ہے۔

وکیل نے مزید بتایا کہ شہلا رضا کے کہنے پر شاہ رخ کے اہل خانہ سے نمرہ کو ملنے نہیں دیا جا رہا، نمرہ کے اہل خانہ با آسانی ملاقات کرنے جاتے ہیں اور لڑکی پر دباؤ ڈال رہے ہیں، شہلا رضا کو لڑکی پر دباؤ ڈالنے سے روکا جائے۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو فوری طور پر روسٹرم پر طلب کر لیا، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسارکیا کہ شیلٹر ہوم میں کورٹ نے نمرہ سے ملاقات پر پابندی لگائی ہے۔

جس پر تفتیشی افسر نے عدالت میں جواب دیا کہ نہیں سندھ ہائی کورٹ کے حکم نامہ میں ایسا کچھ نہیں ہے، عدالت نے کہا کہ پھر کیوں نمرہ کاظمی کی ملاقات نہیں کرائی جا رہی،کھانا پینا کیوں بند کیا گیا ہے؟ کیا شیلٹر ہوم میں لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے؟

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ میرے علم میں ایسا کچھ نہیں نا ہی ملاقات پر پابندی عائد ہے۔

دوران سماعت شاہ رخ کی جانب سے درخواست ضمانت دائرکری گئی،عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کا چالان اب تک کیوں پیش نہیں کیا گیا؟

تفتیشی افسر نے بتایا کہ کہ مقدمہ میں سندھ چائلڈ ایکٹ کا اضافہ کیا گیا ہے،لڑکی 164 کا بیان ہونے کے بعد چالان جمع کرائیں گے۔

شاہ رخ کے وکیل نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کیا کہ نکاح کہاں ہوا ہے، تفتیشی افسر نے بتایا کہ نکاح پنجاب میں ہوا ہے، جس پر وکیل شاہ رخ کا کہنا تھا کہ جب نکاح پنجاب میں ہوا تو سندھ چائلڈ پروٹیکشن ایک کیسے لاگو ہو سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ آپ نے کس کے کہنے پر سندھ چائلڈ پروٹیکشن ایک کی دفعات کا اضافہ کیا تو تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ میں نے مجسٹریٹ کے کہنے پر اضافہ کیا۔

جس پر عدالت نے پوچھا کہ مجسٹریٹ نے آرڈر کیا تھا ، تفتیشی افسر نے جواب دیا نہیں زبانی کہا گیا تھا تو عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت زبانی کوئی حکم نہیں دیتی، عجب سندھ ہائیکورٹ میں بیان ہوچکا تو دوبارہ بیان کی کیا ضرورت ہے؟ ٹھیک ہے ہم لڑکی سے بھی بات کرتے ہیں۔

جس کے بعد نمرہ نے 164 کا بیان جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو قلم بند کرایا ، نمرہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اغوا کی تردید کردی۔

نمرہ کاظمی نے بیان دیا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، نجیب شاہ رخ سے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، جس پر عدالت نے نمرہ کے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد تفتیشی افسر کو چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے نمرہ کے بیان کے بعد پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے نمرہ کو اپنی مرضی کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے کہا کہ نمرہ جس کے ساتھ جائے گی وہ عدالت میں زر ضمانت پانچ لاکھ روپے جمع کرانے کا پابند ہوگا جبکہ شاہ رخ کی ضمانت کی درخواست ڈسٹرک جج کی عدالت میں لگانے کا حکم دے دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں