عدالتی حکم میں نوازشریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی کا ذکر نہیں، چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

نواز مریم تقاریر پر پابندی، ہائی کورٹ کے حکم کا غلط تاثر پیش کیا گیا، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان نے نوازشریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی کی خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں تقریر نشر کرنے کی پابندی کا کہیں تذکرہ ہی نہیں، عدالتی فیصلے کا غلط تاثر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق عدلیہ مخالف تقاریرپرپابندی سےمتعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے مختلف اخبارات میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے برعکس خبر شائع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالتی آرڈر پڑھ لیں عدالت نے کب پابندی عائد کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تمام انگریزی اخبارات نےتقریر نشر کرنے کی پابندی سے متعق خبر شائع کی جبکہ عدالتی حکم میں نوازشریف مریم نوازکی تقاریر پر پابندی کے احکامات کہیں نہیں لکھے گئے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے اجازت مانگتے ہوئے کہا کہ میں ہائی کورٹ کافیصلہ پڑھ کرسناناچاہتاہوں جس پر جسٹس عظمت سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ’مبارک ہوآپ پہلےآدمی ہیں جوفیصلہ پڑھ رہےہوں گے‘۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ یہ بات ناقابلِ تسلیم ہے کہ عدالتی رپورٹر غلط خبر دے سکتا ہے کسی نے اصل خبر کو تبدیل کر کے یہ خبر میڈیا کو دی، اس دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پیمرا کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہوا؟۔

مزید پڑھیں:  نوازشریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پرعبوری پابندی عائد

وکیل کو رسٹروم پر دیکھتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پیمراکی طرف سےوہ وکیل پیش ہواجو نوازشریف کاوکیل ہے، سلمان اکرم راجہ آپ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آپ کا لائسنس معطل کریں گے۔

چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ آپ کس طرح پیمراکی طرف سے ہیش ہوئے؟ کیا اس کیس کو لڑنا یا پیمرا کی طرف سے پیش ہونا مفادات کا ٹکراؤ نہیں؟ اس پر سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس کو آگاہ کیا کہ میں پیمرا کی طرف سے کافی عرصے سے پیش ہورہا ہوں مگر عدالت سے معافی چاہتے ہوئے اپنا وکالت نامہ واپس لیتا ہوں۔

جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت استفسار کیا کہ پیمرا کے ایگزیکٹو ممبر کہاں ہیں؟ جس پر وہ اٹھ کر روسٹروم پر آئے تو چیف جسٹس سے ایک بار پھر استفسار کیا کہ آپ اتنی تاخیر سے کیوں آئے؟۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت کےحکم میں کیاغلطی ہے؟ اسلام آبادہائیکورٹ کاحکم بالکل درست ہے، اٹارنی جنرل فیصلے پر آپ کی کیا رائے ہے کیونکہ عدالتی حکم میں نوازشریف اورمریم نواز کی تقاریر نشر کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف اورمریم نوازکی تقاریرپرپابندی،چیف جسٹس نے ازخودنوٹس لے لیا

جسٹس عظمت سیعد شیخ نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے میں حد پار کی گئی، آرڈر کردیتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جائے،اٹارنی جنرل کو معلوم کرنا ہے کہ غلط خبرکےذرائع کیا ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ایک حملہ عدلیہ پر پہلے ہوا اب عدالت پر ایک اور حملہ ہوگیا، ہمیں ریاست کی طرف سے سیکیورٹی کی ضرورت نہیں، یہ قوم ہماراتحفظ خود کرے گی کیونکہ یہ لوگ روز گالیاں دیتے ہیں اور خواتین نے فیصلے کے خلاف عدالت میں آکر گالیاں دیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کےدروازےپرآکرگالیاں دی گئیں، میں تین دن سے ان واقعات کاپتہ کرارہاہوں کہ خواتین کو سپریم کورٹ تک کون لے کر آیا۔

عدالت نے فیصلہ سنایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی غلط خبر بنا کر تاثر دیا گیا کہ نوازشریف اور مریم نواز کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے اظہار رائے کے بنیادی حق کو سلب کیا گیا جبکہ عدالت نے آرٹیکل19کےتحت عدلیہ مخالف تقاریر روکنےکاحکم دیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں