The news is by your side.

Advertisement

‏’کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا‘‏

وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا البتہ یہ ‏معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کا کہا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا ‏اجلاس 6 گھنٹے بعد ختم ہو گیا جس میں آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی سمیت عسکری حکام نے شرکت ‏کی۔

اپوزیشن لیڈر، بلاول بھٹو ، وفاقی وزرا اور پارلیمانی لیڈر سمیت وزرائےاعلیٰ بھی اجلاس میں موجود تھے، ذرائع کا ‏کہنا ہے کہ اجلاس میں ٹی ایل پی سے معاہدے ،ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا معاملہ زیر بحث آیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ جلاس ان کیمرہ تھا اور اچھے ماحول ‏میں ہوا زیادہ تر معاملہ ٹی ٹی پی اور افغان صورتحال پر بات ہوئی،‎ ‎فضل الرحمان کے بیٹے اچھی باتیں کی، شاہ ‏محمود قریشی نے بات کی۔

صحافی نے جب سوال کیا کہ ٹی ٹی پی سےمتعلق کوئی فیصلہ ہوا؟ تو وزیرداخلہ نے جواب دیا کہ کالعدم ٹی ٹی ‏پی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا البتہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کا کہا گیا ہے۔

قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیوایم نے دفاتر کھولنے کا مطالبہ کیا ، وفاقی وزیر خالدمقبول ‏صدیقی نے کارکنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا ٹی ایل پی بحال ہو سکتی ہے تو ہمارا کیا قصور ہے، ‏دفترکھولنےکا مطالبہ کرتے رہے مگر اجازت نہیں دی گئی، پولیس والوں کو شہید کرنا بڑی دہشت گردی ہے تالیاں ‏بجانا نہیں۔

اجلاس کے دوران خالد مقبول صدیقی سے سوال کیا گیا کہ آج وزیراعظم کیوں نہیں آئے ، جس پر خالد مقبول ‏صدیقی نے جواب دیا کہ یہ تو وزیر اعظم سے ہی پوچھنا پڑے گا۔

اس حوالے سے ایم کیو ایم رہنما وسیم اختر نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ‏سمجھتاہوں ٹی ایل پی کامعاملہ بڑی خوش اسلوبی سے ختم ہوا، باجوہ صاحب نے بڑی حکمت سے اس معاملے کو ‏حل کرایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں