The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک لگانا ضروری ہے یا نہیں؟ اہم وضاحت

جینیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) ایک بار پھر وضاحت ہے کہ کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے منہ پر ماسک لگانا ضروری نہیں ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ منہ پر ماسک اُن لوگوں کو لگانا چاہیں جو کرونا وائرس سے متاثر ہوئے یا پھر  وہ متاثرہ شخص کی نگہداشت کرتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او ایمرجنسی پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر  ڈاکٹر مائیک ریان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک کوئی ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ بات کہی جاسکے کہ ماسک لگانا ضروری یا فائدے مند ہے‘۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس: دنیا بھر سے ماسک پہنے ہوئے انسانوں‌ کی تصاویر

اُن کا کہنا تھا کہ ‘یہاں تک کہ کچھ لوگ ماسک کا غلط استعمال کررہے ہیں اور وہ اپنے چہرے کو کسی چست ماسک سے ڈانپ لیتے ہیں، اسی وجہ سے دنیا بھر میں ماسک کی قلت بھی پیدا ہوئی ہے‘۔

ڈاکٹر ریان کا کہنا تھا کہ ’ماسک لگانا فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے لیے ضروری ہے کیونکہ وہ متاثرہ شخص کے ہروقت قریب ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وائرس اُن کے جسم میں منتقل ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے’۔

متعدی بیماریوں کی ماہر اور ڈبلیو ایچ او کی عہدیدار ڈاکٹر ماریہ وین کا کہنا تھا کہ ’یہ ضروری ہے کہ وہ لوگ ماسک لازم استعمال کریں جن کو ان کی زیادہ ضرورت ہے، جیسے ڈاکٹرز، نرسز اور وہ طبی عملہ ہے جو براہ راست بیماروں سے رابطے میں رہتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ماسک اور دستانے کرونا کے خطرات بڑھا دیتے ہیں، تحقیق

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم شہریوں کو مشورہ دیں گے کہ وہ ماسک پہن کر خود کو بیمار نہ کریں، سانس لینے میں رکاوٹ کی وجہ سے بھی انسان کو بیماری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، قرنطینہ کے دوران بھی ماسک لگانے کی ضرورت نہیں ہے‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں