The news is by your side.

Advertisement

اپوزیشن کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے فوج بلانے کا آپشن زیر غور نہیں: وزیر دفاع

اسلام آباد: اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی جانے والی کمیٹی نے آج پریس کانفرنس کی، کمیٹی کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج کے سلسلے میں فوج بلانے کا آپشن زیر غور نہیں۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ فوج بلانے کی نوبت آئے گی نہ اس پر غور کر رہے ہیں، فوج کو بلانے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کے مخالفین کے ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے، مجھے یقین ہے مولانا کسی اور کے ایجنڈے کے پیچھے نہیں چلیں گے۔

ان کا کہنا تھا تمام اپوزیشن جماعتوں سے گزارش ہے آ کر بات کریں، اگر اپنے مطالبات سامنے نہیں لائیں گے تو افراتفری ہوگی، جس کی ذمہ دار وہی جماعتیں ہوں گی، اگر آپ ہم سے بات نہیں کریں گے تو پھر ہم اپنا فرض ادا کریں گے۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا ہم نے اپنے کارڈز اوپن کر دیے ہیں، حکومتی رٹ کو کوئی چیلنج کرے تو قانون حرکت میں آئے گا، ہماری کمیٹی کا مقصد سے بات چیت ہے، اگر بات چیت فیل ہوگئی تو پھر حکومت اور اداروں نے فیصلہ کرنا ہے، ہم صحیح نیت سے آئے ہیں اور ارادے بھی ٹھیک ہیں، وزیر اعظم کا استعفیٰ نا ممکن سی بات ہے، یہ ڈکٹیٹ کر کے زبردستی آنا چاہتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ یہ چڑھائی کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آزادی مارچ : اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کیلئے سینئر ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل

وزیر دفاع نے کہا اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو پیغام پہنچایا اور بات چیت کرنے کا کہا، ملکی مفاد کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم نے گھبراہٹ میں کمیٹی تشکیل دی ہے، ہمیں کوئی فکر نہیں، پوری زندگی جلسے جلوس دیکھے، حکومت وہی فیصلہ کرے گی جو قانون میں اجازت ہے۔

انھوں نے مزید کہا اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی میں کوئی ڈیمانڈ پیش نہیں کی گئی، مولانا فضل الرحمان کو پاکستان کے لیے سوچنا چاہیے، مولانا کو پاکستان اور کشمیریوں سے محبت ہے تو پھر بیٹھ کر بات کریں، اپنے ڈیمانڈ سامنے رکھیں، ویلکم کریں گے، شفقت محمود سمیت ہم سب آپ سے بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں۔

شفقت محمود نے پریس کانفرنس میں کہا کہ فضل الرحمان سے گزارش کروں گا سیاسی گفتگو چلتی رہتی ہے، کسی بھی سیاسی تحریک میں بچوں کی تعلیم پر کوئی حرج نہیں آنی چاہیے، آئین و قانون میں مسلح جتھوں کی اجازت نہیں، گزارش ہے مدرسے کے بچوں کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں